سرینگر؍۲۱؍اپریل
مرکزی وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور اور حکومتِ ہند کی جانب سے پی ایم ای بس سیوا اسکیم کے تحت۳۳برقی بسوں کی منظوری کے ساتھ لداخ کے مرکز کے زیر انتظام خطے میں عوامی ٹرانسپورٹ اور پائیدار نقل و حمل کو ایک اہم فروغ ملنے جا رہا ہے۔
اس بیڑے میں۷میٹر لمبی الیکٹرک بسیں شامل ہوں گی، جو خاص طور پر لداخ کے دشوار گزار علاقے اور سڑکوں کی حالت کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔
اس اقدام سے توقع ہے کہ صاف توانائی کے فروغ، آلودگی میں کمی اور سفر کے مجموعی تجربے کو بہتر بنا کر لداخ میں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ حکام کے مطابق ای-بسوں کی فراہمی ایک ماہ کے اندر متوقع ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے اس دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے خطے میں پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا، جو کہ یو ٹی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے کہا’’الیکٹرک بسوں کی منظوری لداخ میں ایک پائیدار اور ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ نظام کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ یہ ہمارے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اس خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھتے ہوئے رابطہ اور رسائی کو بہتر بنائیں۔ یہ بسیں نہ صرف کاربن کے اخراج کو کم کریں گی بلکہ رہائشیوں کے لیے ایک سستا اور مؤثر سفری ذریعہ بھی فراہم کریں گی‘‘۔
الیکٹرک بسوں کے آغاز سے خطے کو متعدد فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کے اس وژن کے مطابق ہے جس کے تحت لداخ کو پائیدار ترقی کے ذریعے کاربن نیوٹرل خطہ بنایا جانا ہے۔ ای-بسوں کی تعیناتی سے کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، جو ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گی، خاص طور پر اس نازک ٹرانس ہمالیائی خطے میں۔
بسوں کا نسبتاً چھوٹا سائز (۷ میٹر) لداخ کے جغرافیے اور مشکل راستوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ آمد و رفت ہموار اور مؤثر بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، یہ نیا بیڑا مقامی رہائشیوں، خصوصاً دور دراز علاقوں میں بسنے والوں کے لیے سستا اور قابلِ اعتماد سفری ذریعہ فراہم کرے گا، جس سے علاقے کے عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مضبوطی ملے گی۔
قابل ذکر ہے کہ منصب سنبھالنے کے بعد سے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ ماحول دوست اور پائیدار اقدامات کو فروغ دینے کے لیے سرگرم رہے ہیں تاکہ لداخ کے قدرتی حسن کو برقرار رکھا جا سکے۔ یو ٹی انتظامیہ نے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے الیکٹرک موبیلیٹی اور شمسی توانائی کے حل کو فروغ دینے کو ترجیح دی ہے۔










