بھدرواہ؍۲۱؍اپریل
غیر موسمی برفباری کے درمیان، گجر اور بکروال قبائل کے سینکڑوں افراد نے جموں و کشمیر کی چناب وادی کے بلند و بالا چراگاہوں کی جانب اپنی صدیوں پرانی سال میں دو بار ہونے والی نقل مکانی کا آغاز کر دیا ہے، اور سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ خانہ بدوش اپنے مویشیوں کے ساتھ گزشتہ ہفتے اپنے روایتی راستوں پر روانہ ہوئے، جس سے موسمی نقل مکانی کا آغاز ظاہر ہوتا ہے۔ یہ نقل مکانی اس کے باوجود ہو رہی ہے کہ کئی بلند علاقوں میں تازہ، بلکہ غیر معمولی، برفباری ہوئی ہے، جس نے راستے کو خاص طور پر خطرناک بنا دیا ہے۔
سینکڑوں خاندان کٹھوعہ، سانبہ اور جموں اضلاع کے میدانی علاقوں سے گزر کر چناب وادی کے بلند چراگاہوں کی جانب سفر کر رہے ہیں، ایک ایسا سفر جسے گرمیوں کے چراگاہوں تک پہنچنے میں کم از کم ایک ماہ لگتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ۱۰دنوں میں۲۵۰خانہ بدوش خاندان دس ہزار۵۰۰فٹ بلند برف سے ڈھکے چٹّرگلہ چیک پوسٹ کو عبور کر چکے ہیں، جو ڈوڈہ ضلع کے بھدرواہ کو کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی سے جوڑتا ہے۔
بھیڑ، بکریوں اور گھوڑوں کے ریوڑ کے ساتھ، یہ خاندان کھڑی پہاڑی پگڈنڈیوں، ابلتے ندی نالوں اور پھسلن بھری راہوں سے گزرتے ہوئے بڑے خطرات سے دوچار ہو رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ نقل مکانی ان برادریوں کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ گرمیوں کے مہینوں میں بلند چراگاہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ہر سال جب سردی ختم ہوتی ہے اور جموں خطے میں بہار کا آغاز ہوتا ہے، تو گجر اور بکروال قبائل اپنی صدیوں پرانی نقل مکانی شروع کرتے ہیں، جس سے ڈوڈہ، کشتواڑ اور رامبن اضلاع کے بلند چراگاہوں میں نئی زندگی آتی ہے۔
۸۵ سالہ عبدالمجید جو کٹھوعہ کے بسوہلی کے رہائشی ہیں اور اپنے گروہ کو کشتواڑ کے پڈّر لے جا رہے ہیں، نے کہا’’اگرچہ ہمیں نقل مکانی کے دوران بے شمار جان لیوا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ہم ازل سے اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔ ہمارے پاس اس انتہائی مشکل طرزِ زندگی کو جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، جو ہمیں ہمارے آباؤ اجداد سے ملا ہے‘‘۔
مجید نے کہا کہ ہر سال اس مشکل سفر کے دوران خراب موسم کے باعث برادری کو مویشیوں، بشمول بکریوں اور گھوڑوں، کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اور بعض اوقات بچے اور بزرگ بھی اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری مدد نہ ہونے کے برابر ہے۔
۶۳ سالہ نشاطا بیگم کاکہنا تھا’’سرتھل اور گلدنڈہ کے درمیان۱۵ کلومیٹر کے راستے پر برفانی طوفانوں کی وجہ سے ہماری کئی بکریاں مر گئیں۔ گزشتہ ہفتے تین دن تک خوراک بھی کم پڑ گئی۔ اب ہمیں امید ہے کہ ہم محفوظ طریقے سے مچیل پہنچ جائیں گے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ جو وقت کبھی نقل مکانی کے دوران خوشی کا باعث ہوتا تھا، اب وہ سخت محنت سے حاصل کیے گئے مویشیوں کے نقصان اور مقامی لوگوں کی جانب سے بعض اوقات دشمنی اور امتیازی سلوک کے باعث ایک مشکل دور بن چکا ہے۔
بیگم نے بتایا کہ ان کے دونوں بیٹے گریجویٹ ہونے اور درج فہرست قبیلے سے تعلق رکھنے کے باوجود سرکاری نوکری حاصل نہ کر سکے اور بالآخر انہیں اپنے آباؤ اجداد کے پیشے کو جاری رکھنا پڑا۔
۱۴سالہ صدام چوہان نے کہا کہ بلند چراگاہوں کی جانب سفر کے دوران اسے چٹّرگلہ میں سخت حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا، جہاں اس کی آنکھوں کے سامنے برفانی طوفان میں کئی بکریاں ہلاک ہو گئیں، اور وہ بے بس رہا۔انہوں نے کہا کہ خاندان کے پاس اپنے والد اور دادا کے پیشے کو جاری رکھنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
بھدرواہ کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر دیویندر کمار نے افسران کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے، جس کی قیادت رینج آفیسر سمیر رِشو کر رہے ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جنگلاتی علاقوں سے گزرتے وقت خانہ بدوشوں کو کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ ہو۔
کمار نے کہا ’’گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کئی سو خاندان بھدرواہ کے جنگلاتی دائرے میں داخل ہوئے ہیں، اور ہماری ٹیم چوبیس گھنٹے ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ بہت سے لوگ رات کے اوقات میں بھی اپنا سفر جاری رکھتے ہیں‘‘۔
افسر نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ خانہ بدوش قبائل کو درانداز نہ سمجھیں بلکہ مہمانوں کے طور پر خوش آمدید کہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ وہ جنگلاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ برادریاں جنگلات کے ساتھ صدیوں پرانا باہمی تعلق رکھتی ہیں وہ خوراک، پناہ اور روزگار کے لیے ان پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ پائیدار طریقوں کے ذریعے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’ان کی ثقافت، عقائد اور روایتی علم فطرت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، جو انہیں جنگلات کے محض صارفین نہیں بلکہ محافظ بناتے ہیں‘‘۔
قبائلی خانہ بدوش روایتی طور پر گرمیوں میں اپنے مویشیوں کے ساتھ شمالی ہمالیہ کی بالائی ڈھلوانوں کی طرف جاتے ہیں، اور سردیوں میں سینکڑوں میل پیدل طے کر کے بل کھاتی پگڈنڈیوں کے ذریعے واپس میدانی علاقوں میں لوٹ آتے ہیں۔ایجنسیز










