سعودی عرب کا حج کی ادائیگی پر دس سالہ پابندی کا بھی اعلان
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۷؍اپریل
سعودی عرب نے بغیر سرکاری اجازت کے حج ادا کرنے یا اس میں مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے، جن میں ایک لاکھ سعودی ریال (تقریباً۲۴لاکھ۹۰ہزار لاکھ روپے) تک جرمانہ شامل ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ سزائیں نہ صرف غیر مجاز حجاج بلکہ ان افراد پر بھی لاگو ہوں گی جو وزٹ ویزہ رکھنے والوں کو غیر قانونی طور پر حج ادا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
یہ اقدامات۱۸؍اپریل سے لے کر وسط جون تک نافذ العمل رہیں گے، جو حج کے عروج کے ایام پر محیط ہیں، اور ان تمام افراد پر لاگو ہوں گے جو بغیر اجازت مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات میں داخل ہونے یا داخلے کی کوشش کریں گے۔
قوانین کے تحت بغیر اجازت حج ادا کرنے یا اس کی کوشش کرنے والے افراد پر۲۰ہزارسعودی ریال (تقریباً۴لاکھ۹۸ہزارلاکھ روپے) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہی جرمانہ ان وزٹ ویزہ ہولڈرز پر بھی لاگو ہوگا جو یکم ذوالقعدہ سے۱۴ذوالحجہ کے دوران مکہ مکرمہ میں داخل ہوں یا وہاں قیام کریں۔
مزید سخت سزائیں ان افراد کے لیے مقرر کی گئی ہیں جو اس خلاف ورزی میں سہولت فراہم کرتے ہیں، جیسے وزٹ ویزہ کا انتظام کرنا، غیر مجاز حجاج کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنا یا انہیں رہائش دینا۔ ایسے افراد پر ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد کے مطابق بڑھ بھی سکتا ہے۔
حکام کے مطابق جو افراد بغیر اجازت مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے یا ویزہ کی مدت سے تجاوز کریں گے، انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا اور آئندہ دسسال تک سعودی عرب میں داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔ عدالتیں خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطی کا حکم بھی دے سکتی ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور زائرین پر زور دیا ہے کہ وہ حج سے متعلق قوانین کی مکمل پابندی کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ مزید یہ کہ سزا یافتہ افراد۳۰دن کے اندر شکایت درج کرا سکتے ہیں اور۶۰دن کے اندر انتظامی عدالت میں اپیل بھی کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ہوٹلوں، اپارٹمنٹس، نجی گھروں یا دیگر رہائشی مقامات پر ایسے افراد کو ٹھہرانے، چھپانے یا مدد فراہم کرنے والوں پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور جرمانے کی مقدار افراد کی تعداد کے مطابق بڑھتی جائے گی۔اس کے علاوہ متعلقہ عدالت سے اس گاڑی کی ضبطی کی بھی درخواست کی جائے گی جو ایسے افراد کی نقل و حمل کے لیے استعمال کی گئی ہو۔
سعودی عرب کا حج کی ادائیگی پر دس سالہ پابندی کا بھی اعلان
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۷؍اپریل
سعودی عرب نے بغیر سرکاری اجازت کے حج ادا کرنے یا اس میں مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے، جن میں ایک لاکھ سعودی ریال (تقریباً۲۴لاکھ۹۰ہزار لاکھ روپے) تک جرمانہ شامل ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ سزائیں نہ صرف غیر مجاز حجاج بلکہ ان افراد پر بھی لاگو ہوں گی جو وزٹ ویزہ رکھنے والوں کو غیر قانونی طور پر حج ادا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
یہ اقدامات۱۸؍اپریل سے لے کر وسط جون تک نافذ العمل رہیں گے، جو حج کے عروج کے ایام پر محیط ہیں، اور ان تمام افراد پر لاگو ہوں گے جو بغیر اجازت مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات میں داخل ہونے یا داخلے کی کوشش کریں گے۔
قوانین کے تحت بغیر اجازت حج ادا کرنے یا اس کی کوشش کرنے والے افراد پر۲۰ہزارسعودی ریال (تقریباً۴لاکھ۹۸ہزارلاکھ روپے) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہی جرمانہ ان وزٹ ویزہ ہولڈرز پر بھی لاگو ہوگا جو یکم ذوالقعدہ سے۱۴ذوالحجہ کے دوران مکہ مکرمہ میں داخل ہوں یا وہاں قیام کریں۔
مزید سخت سزائیں ان افراد کے لیے مقرر کی گئی ہیں جو اس خلاف ورزی میں سہولت فراہم کرتے ہیں، جیسے وزٹ ویزہ کا انتظام کرنا، غیر مجاز حجاج کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنا یا انہیں رہائش دینا۔ ایسے افراد پر ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد کے مطابق بڑھ بھی سکتا ہے۔
حکام کے مطابق جو افراد بغیر اجازت مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے یا ویزہ کی مدت سے تجاوز کریں گے، انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا اور آئندہ دسسال تک سعودی عرب میں داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔ عدالتیں خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطی کا حکم بھی دے سکتی ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور زائرین پر زور دیا ہے کہ وہ حج سے متعلق قوانین کی مکمل پابندی کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ مزید یہ کہ سزا یافتہ افراد۳۰دن کے اندر شکایت درج کرا سکتے ہیں اور۶۰دن کے اندر انتظامی عدالت میں اپیل بھی کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ہوٹلوں، اپارٹمنٹس، نجی گھروں یا دیگر رہائشی مقامات پر ایسے افراد کو ٹھہرانے، چھپانے یا مدد فراہم کرنے والوں پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور جرمانے کی مقدار افراد کی تعداد کے مطابق بڑھتی جائے گی۔اس کے علاوہ متعلقہ عدالت سے اس گاڑی کی ضبطی کی بھی درخواست کی جائے گی جو ایسے افراد کی نقل و حمل کے لیے استعمال کی گئی ہو۔










