نیویارک، 16 اپریل (یو این آئی) وسطی امریکی ملک ایل سلواڈور میں حکام کی جانب سے ایک نیا قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو سنگین جرائم پر عمر قید کی سزا دی جا سکے گی، یہ قانون 26 اپریل سے نافذ العمل ہو گا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام صدر نایب بوکیلے کی سخت گیر پالیسیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک میں گینگ جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نئے قانون کے تحت قتل، دہشت گردی اور زیادتی جیسے جرائم میں ملوث کم عمر افراد کو بھی بالغ مجرموں کی طرح سزا دی جا سکے گی۔
مارچ 2022ء سے ایل سلواڈور میں ہنگامی حالت نافذ ہے جس کے تحت کئی شہری حقوق کو معطل کر دیا گیا ہے اور پولیس و فوج کو وسیع اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 90,000 سے زائد افراد کو اس دوران گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک کی تقریباً 1.9 فیصد آبادی جیلوں میں قیدیوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہنگامی اقدامات کے دوران بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہزاروں بے گناہ افراد بھی گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ کچھ کیسز میں انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد بھی ملے ہیں۔








