جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک مجرمانہ واردات ہی نہیں بلکہ ایک ایسے سماجی اور انتظامی امتحان کی صورت اختیار کر گیا ہے جس میں ریاستی اداروں کی ساکھ، قانون کی عملداری اور عوامی اعتماد سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ایک نوجوان کی زندگی خطرے میں پڑ جانا، اس کا لاپتہ ہو جانا، اور اس سے پہلے اس کے ساتھ مبینہ تشدد کا واقعہ‘یہ سب ایسے سوالات کو جنم دیتے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ بیان کہ ’’جموں و کشمیر میں جنگل راج کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ بظاہر ایک مضبوط سیاسی عزم کی عکاسی کرتا ہے، مگر ایسے بیانات کی اصل اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب ان کے ساتھ عملی اقدامات بھی جڑے ہوں۔ یہ معاملہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی بالادستی کے تصور کا ہے۔ اگر لوگ یہ محسوس کریں کہ ہجوم یا خودساختہ گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں، تو پھر ریاستی نظام کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔
رام بن واقعہ میں جو پہلو سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ یہ ہے کہ مبینہ طور پر گائے کے تحفظ کے نام پر ایک شخص کا پیچھا کیا گیا، اسے روکا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے نالے میں کودنے پر مجبور ہوا۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ قصوروار کون ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے حالات پیدا کیوں ہوتے ہیں جہاں کوئی شہری خود کو اتنا غیر محفوظ محسوس کرے کہ وہ موت کے دہانے تک پہنچ جائے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا، ملزمان کو گرفتار کیا اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ یہ اقدامات ابتدائی طور پر تسلی بخش ضرور ہیں، مگر انصاف کا اصل تقاضا محض گرفتاریوں سے پورا نہیں ہوتا۔ اس کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے‘واقعہ کی نوعیت، حملہ آوروں کے محرکات، اور یہ کہ آیا اس کے پیچھے کوئی منظم ذہنیت یا سوچ کارفرما تھی۔
اس طرح کے واقعات میں ایک خطرناک رجحان یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کچھ عناصر مذہبی یا سماجی حساسیت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ گائے کے تحفظ جیسے حساس موضوع کو بنیاد بنا کر کسی فرد کو نشانہ بنانا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ اگر اس رجحان کو بروقت اور سختی سے نہ روکا گیا تو یہ مستقبل میں مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر اعتماد رکھتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ پولیس ان کے ماتحت ہے۔ ایسے میں ان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس معاملے میں نہ صرف فوری بلکہ شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اگر تحقیقات میں کسی قسم کا ابہام یا تاخیر ہوئی تو اس سے عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس کی بحالی پھر ایک مشکل عمل بن جاتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک اور تلخ حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے—ہجوم کی نفسیات۔ جب چند افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں اور کسی شبہے یا الزام کی بنیاد پر کارروائی کرنے لگتے ہیں، تو یہ معاشرے کے لیے ایک خطرناک رجحان بن جاتا ہے۔ اس کا تدارک صرف قانونی کارروائی سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سماجی بیداری اور واضح پیغام بھی ضروری ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
رام بن کے اس واقعہ میں لاپتہ نوجوان کے اہل خانہ کا کرب بھی اپنی جگہ ایک دردناک پہلو ہے۔ ایک باپ کا یہ کہنا کہ اس کا بیٹا تین بہنوں کا واحد بھائی تھا، اور اس کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ‘یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ صرف ایک قانونی کیس نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی ہے۔ ایسے میں ریاست کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کہ وہ نہ صرف انصاف فراہم کرے بلکہ متاثرہ خاندان کو یہ یقین بھی دلائے کہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔
یہ بھی اہم ہے کہ تحقیقات کا دائرہ صرف براہ راست ملزمان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ آیا اس واقعہ کے پیچھے کوئی وسیع تر نیٹ ورک یا ذہنیت تو کارفرما نہیں۔ اگر ایسے عناصر کی نشاندہی ہو جائے جو اس طرح کے واقعات کو ہوا دیتے ہیں، تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
ایک اور پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ہے احتیاطی اقدامات کی اہمیت۔ حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایسے حساس معاملات میں بروقت مداخلت کریں، انٹیلی جنس کو مضبوط بنائیں اور ایسے علاقوں میں نگرانی بڑھائیں جہاں اس طرح کے واقعات کے امکانات زیادہ ہوں۔ صرف ردعمل کافی نہیں، پیشگی اقدامات ہی اصل کامیابی کا راستہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ ’’ہم ایسی چیزوں کو کبھی ہونے نہیں دیں گے‘‘ ایک مضبوط ارادہ ضرور ظاہر کرتا ہے، مگر اس ارادے کو عملی شکل دینا ہی اصل امتحان ہے۔ اگر اس واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے، اور یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، تو یہ نہ صرف انصاف ہوگا بلکہ مستقبل کے لیے ایک مثال بھی قائم کرے گا۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رام بن کا یہ واقعہ ایک سنگین وارننگ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن و امان محض دعووں سے نہیں بلکہ مضبوط، شفاف اور غیر جانبدار نظامِ انصاف سے قائم ہوتا ہے۔ اگر اس کیس کی تحقیقات دیانتداری سے کی گئیں اور ملزمان کو سخت سزا دی گئی، تو یہ نہ صرف ایک خاندان کو انصاف فراہم کرے گا بلکہ پورے معاشرے میں یہ یقین بھی بحال کرے گا کہ قانون زندہ ہے، اور کوئی بھی اس سے بالاتر نہیں۔
اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں ریاست کی اصل طاقت دکھائی دیتی ہے‘جب ایک کمزور کو یقین ہو کہ اس کی آواز سنی جائے گی، اور ایک طاقتور کو یہ احساس ہو کہ وہ جوابدہ ہے۔





