ہندوستانی جمہوریت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اصولی وعدوں اور عملی نفاذ کے درمیان فاصلے کو کم کر نا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے نام لکھے گئے خط اور پارلیمنٹ کے مجوزہ خصوصی اجلاس نے ایک بار پھر ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ یعنی خواتین ریزرویشن ایکٹ کو قومی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
بظاہر یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں‘کیا یہ واقعی خواتین کو بااختیار بنانے کی سنجیدہ کوشش ہے یا پھر ایک سیاسی حکمت عملی جس کا وقت اور انداز خود کئی معنی رکھتا ہے؟
سب سے پہلے اس قانون کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ ستمبر۲۰۲۳ میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس قانون کو منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳ فیصد نشستیں مختص کرنے کی بات کی گئی۔ یہ ایک تاریخی قدم تھا کیونکہ دہائیوں سے اس مطالبے پر سیاست ہوتی رہی، مگر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تاہم اس قانون کی ایک اہم شرط نے اس کی فوری افادیت کو محدود کر دیا—اس کا نفاذ مردم شماری اور حد بندی کے بعد ممکن تھا، جو کہ۲۰۲۷ کے بعد ہی متوقع ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ خواتین کو عملی طور پر اس حق کے لیے۲۰۳۴تک انتظار کرنا پڑ سکتا تھا۔
اب حکومت اس قانون میں ترمیم کے ذریعے اسے۲۰۲۹کے انتخابات سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مزید تاخیر خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی، اور اگر۲۰۲۹کے انتخابات میں خواتین کی نمائندگی مکمل طور پر نافذ ہو جائے تو جمہوریت مزید مضبوط اور متحرک ہوگی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی اس کی نمائندگی کے تنوع سے جڑی ہوتی ہے، اور خواتین کی شمولیت اس تنوع کا لازمی جز ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے‘اگر یہ اتنا ہی اہم تھا، تو۲۰۲۳میں قانون بناتے وقت اس کے فوری نفاذ کی راہ کیوں نہیں ہموار کی گئی؟ کیا یہ تاخیر محض تکنیکی تھی یا اس کے پیچھے سیاسی مصلحتیں کارفرما تھیں؟ اب جبکہ۲۰۲۹کے انتخابات قریب آ رہے ہیں، اس قانون کو دوبارہ نمایاں کرنا ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے خواتین ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں خواتین کی سیاسی نمائندگی عالمی معیار کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ اگرچہ مقامی سطح پر پنچایتی راج اداروں میں خواتین کی شرکت نے مثبت نتائج دیے ہیں‘جہاں کئی ریاستوں میں ان کی نمائندگی۵۰ فیصد تک پہنچ چکی ہے‘مگر قومی اور ریاستی سطح پر ان کی موجودگی محدود ہے۔ اس تناظر میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا تصور نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔
تاہم صرف نشستیں مختص کر دینا کافی نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خواتین کو واقعی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ملے گا یا وہ محض نمائشی حیثیت تک محدود رہیں گی؟ ماضی میں بھی کئی مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ خواتین نمائندے پس پردہ مرد سیاستدانوں کے زیر اثر کام کرتی ہیں، جسے عام طور پر ’’پراکسی سیاست‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر اس رجحان کو ختم نہ کیا گیا تو یہ قانون اپنی روح کے مطابق نتائج دینے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ خواتین کی نمائندگی کو صرف عددی پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں خود اپنے اندر جمہوری رویے اپنائیں اور خواتین کو ٹکٹ دینے میں سنجیدگی دکھائیں۔ اگر پارٹیاں خواتین کو محض کمزور یا غیر اہم حلقوں سے میدان میں اتاریں گی، تو یہ اقدام بھی محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
وزیر اعظم کی اپیل کہ خواتین اپنے مقامی ارکان پارلیمنٹ سے رابطہ کریں اور اس قانون کی حمایت کریں، ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت خود تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مکالمہ کرے۔ اگر یہ معاملہ واقعی قومی اہمیت کا ہے، تو اسے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور پہلو جس پر غور ضروری ہے، وہ لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت ایوان کی کل نشستیں۸۱۶ تک بڑھ جائیں گی، جن میں سے۲۷۳ خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ یہ ایک بڑی آئینی اور انتظامی تبدیلی ہوگی، جس کے اثرات صرف نمائندگی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے انتخابی نظام کو متاثر کریں گے۔ اس لیے اس معاملے پر سنجیدہ بحث اور شفاف منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا اس قانون کا فائدہ تمام طبقات کی خواتین تک یکساں طور پر پہنچے گا یا پھر یہ صرف مخصوص طبقوں تک محدود رہ جائے گا۔ ہندوستان جیسے متنوع معاشرے میں ذات، طبقہ، مذہب اور علاقائی تفاوت جیسے عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ان پہلوؤں کو مدنظر نہ رکھا گیا تو یہ خدشہ موجود ہے کہ خواتین کے اندر بھی ایک نئی عدم مساوات پیدا ہو جائے گی۔
اس پورے معاملے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے خواتین کی سیاسی شمولیت پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ملک بھر میں خواتین اس موضوع پر اپنی آواز بلند کر رہی ہیں، جو کہ ایک صحت مند جمہوری عمل کی علامت ہے۔ اگر اس توانائی کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف خواتین بلکہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ خواتین ریزرویشن ایکٹ محض ایک قانون نہیں بلکہ ایک امتحان ہے—جمہوریت کے دعووں کا، سیاسی قیادت کی نیت کا، اور معاشرے کی سنجیدگی کا۔ اگر اسے خلوص نیت اور جامع حکمت عملی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ واقعی ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوا، تو یہ ایک اور ادھورا وعدہ بن کر رہ جائے گا۔
بات سیدھی ہے‘خواتین کو انتظار بہت کروایا جا چکا ہے۔ اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ انہیں واقعی طاقت دینی ہے، یا صرف امید۔





