جب فوج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے تو مقامی آبادی شانہ بشانہ کھڑی ہو کر داخلی سلامتی کو مزید مضبوط بناتی ہے:فوج
ایجنسیز
راجوری/جموں؍۱۳؍اپریل
فوجی دستے جموں و کشمیر کے اضلاع راجوری اور پونچھ میں ہائی الرٹ پر ہیں اور سرحدوں پر دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، ایس آف اسپیڈز ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل کوشک مکھرجی نے پیر کے روز کہا۔
سرحدی ضلع میں منعقدہ ’راجوری ڈے‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مقامی آبادی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ آئندہ بھی باہمی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے رہیں گے۔
’راجوری ڈے‘ ہر سال۱۳؍اپریل کو اُن فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے۱۹۴۷۔۴۸میں سرحد پار سے دراندازی کرنے والے پاکستانی فوجی اہلکاروں سے ضلع راجوری کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
انہوں نے کہا، ’’آئندہ بھی پیر پنجال کے عوام، انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز باہمی تعاون کے ساتھ کام جاری رکھیں گے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ناکام بنائیں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری فوج سرحدوں پر پوری طرح چوکس ہے اور دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘‘
میجر جنرل مکھرجی نے کہا کہ جب فوج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے تو مقامی آبادی شانہ بشانہ کھڑی ہو کر داخلی سلامتی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
فوجی افسر نے کہا، ’’یہ اعتماد، شراکت داری اور حب الوطنی کا جذبہ ہمارے خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔‘‘انہوں نے آپریشن سندور کے دوران جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر راجوری راج کمار تھاپا، صوبیدار میجر پون کمار، حوالدار سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار اور اگنی ویر مند مرلی نائک شامل ہیں، جنہیں گزشتہ سال مئی میں بعد از مرگ سینا میڈل سے نوازا گیا تھا۔
میجر جنرل مکھرجی نے راجوری اور ملحقہ ضلع پونچھ میں مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے فوج کی جانب سے شروع کی گئی کئی نئی پہلوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
پلاسٹک کے کچرے سے پیدا ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لیے انہوں نے کہا کہ فوج سول انتظامیہ کے اشتراک سے ایک ایسا پلانٹ نصب کرنے جا رہی ہے جو پلاسٹک کے فضلے کو انٹرلاکنگ ٹائلز میں تبدیل کرے گا۔ ان ٹائلز کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ اگلے علاقوں میں راستوں کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
میجر جنرل مکھرجی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف پلاسٹک آلودگی کو کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا، جبکہ ایل او سی پر تعینات فوجی دستوں کی نقل و حرکت کو بھی بہتر بنائے گا۔
فوجی افسر نے ’ڈیجیٹل بھارت درشن‘ اقدام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس پروگرام کے تحت فوج سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو ہر ماہ اپنی کلاسوں میں بیٹھے بیٹھے کسی بڑے شہر کا ورچوئل دورہ کرائے گی۔
میجر جنرل مکھرجی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو ملک بھر میں ہونے والی ترقی سے روشناس کرانا اور سرحدی علاقوں کے بچوں کو مرکزی دھارے کے شہروں سے جوڑنا ہے۔
فوجی افسر نے مزید کہا کہ ’ڈیجیٹل بھارت درشن‘ دراصل پہلے کے بھارت درشن دوروں کا جدید ورژن ہے، جہاں محدود تعداد میں طلبہ کو سفر کا موقع ملتا تھا، لیکن اب ہر طالب علم ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھا سکے گا۔










