’کرسی کیلئے عمر صاحب نے ہمیں حمایت کی پیشکش کی تھی‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۳؍اپریل
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوار کے روز کہا کہ پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد ’اقتدار کے لیے نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحفظ کے لیے‘ کیا تھا۔
محبوبہ نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کارکنوں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے اتحاد کرسی کے لیے نہیں بلکہ دفعہ۳۷۰ کے تحفظ کے لیے کیا تھا۔ کرسی کے لیے عمر صاحب نے ہمیں حمایت کی پیشکش کی تھی‘‘۔
محبوبہ نے کہا کہ اگر اقتدار ہی مقصد ہوتا تو وہ اس پیشکش کو قبول کر لیتے۔انہوں نے کہا ’’لیکن ہم نے حکومت عوام کے لیے بنائی‘‘۔
اپنی حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ تقریباً۱۲ ہزار نوجوانوں کو جیلوں سے رہا کیا گیا اور ہندوستانی قیادت کو مذاکرات کے لیے کشمیر لانے کی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا’’لیکن لوگوں نے اس کو محسوس نہیں کیا اور پتھراؤ کا راستہ اختیار کیا۔ کیا پورا ہندوستانی قیادت کشمیر نہیں آئی؟ کیا وہ گیلانی صاحب کے دروازے تک نہیں پہنچی؟‘‘
پی ڈی پی کی صدر نے۱۹۹۶کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے‘۶۰؍اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کے باوجود، اُس وقت علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کی تھی۔
محبوبہ کاکہنا تھا’’انہوں (عبداللہ) نے کہا تھا کہ اگر حریت کے ساتھ بات چیت کی گئی تو وہ ہندوستان کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کریں گے‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو ایران میں شہری ہلاکتوں پر ’خاموشی اختیار کرنے‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران میں ایک بڑا حملہ ہوا لیکن اس پر ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ محبوبہ نے کہا کہ امریکہ وہاں سے اس لیے واپس ہوا کیونکہ وہ اپنی توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر سکا، باوجود اس کے کہ وہاں کے عوام نے قربانیاں دیں۔
اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے پی ڈی پی کی صدر نے کہا کہ اُس وقت پورے ملک میں صرف ایک میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی منظوری دی گئی تھی، لیکن ان کی حکومت نے جموں و کشمیر کے لیے دو حاصل کیے ایک جموں اور ایک کشمیر خطے کے لیے۔
جلسے سے خطاب کرنے والوں میں ایم ایل اے پلوامہ وحید پرا، ایم ایل اے ترال رفیق احمد نائیک اور سابق وزیر عبدالرحمان ویری بھی شامل تھے۔










