’ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال سے حد بندی۱۱۵۹ جیو ریفرنسڈ آر سی سی ستون نصب کر کے مکمل ‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۱ ؍اپریل
شمالی کشمیر کی وولر جھیل، جو ایشیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں سے ایک اور ایک اہم رام سر سائٹ ہے، میں تحفظ کی کوششوں کے نتیجے میں شدید گاد سے بھرے تقریباً پانچ مربع کلومیٹر رقبے کو بحال کیا گیا ہے، جبکہ ویٹ لینڈ کے ماحولیاتی توازن کی بحالی کے لیے سائنسی منصوبے کے تحت مرحلہ وار۱ء۳۱لاکھ ولو (بید) کے درخت ہٹائے گئے ہیں، حکام نے بتایا۔
حکام کے مطابق جھیل کے رقبے کی بازیابی اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کیلئے تقریباً۷۸ء۴۳لاکھ مکعب میٹر گاد نکالی گئی ہے۔ وولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ تجاوزات کو روکنے اور سیلابی دباؤ کو کم کرنے کے لیے تقریباً۱۵کلومیٹر کے حساس حصوں پر حفاظتی بند مضبوط کیے گئے ہیں۔
ماحولیاتی بحالی کی اس مہم کے ساتھ انفراسٹرکچر کی ترقی بھی کی جا رہی ہے، جس میں بنیاری تا ایس کے پائیں کے درمیان۲ء۵کلومیٹر طویل غیر موٹر ایبل واک وے شامل ہے، جہاں سائیکلنگ ٹریکس اور ویونگ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایکو ٹورزم کے فروغ کے لیے مختلف مقامات پر پارکس بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جھیل کی حد بندی۱۱۵۹ جیو ریفرنسڈ آر سی سی ستون نصب کر کے مکمل کر لی گئی ہے، جس کے لیے جی پی ایس اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وولر جھیل کا ریونیو رقبہ۱۳۰ مربع کلومیٹر ہے، جو اس کے تحفظ میں مدد دیتا ہے اور مزید تجاوزات کو روکتا ہے۔
ڈی سلٹیشن کے عمل کے ذریعے تقریباً پانچ مربع کلومیٹر شدید گاد سے بھرے علاقے کو بحال کیا گیا ہے، جس کے لیے۷۸ء۴۳لاکھ مکعب میٹر گاد نکالی گئی، جس سے جھیل کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بندوں کی مضبوطی کے لیے۱۵کلومیٹر کے حساس حصوں میں مٹی کے پشتوں کو مستحکم کیا گیا ہے تاکہ تجاوزات کو روکا جا سکے اور وولر جھیل کے اطراف رہنے والی مقامی آبادی کو سیلابی خطرات سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ غیر موٹر ایبل واک وے کے فیزٹوی تعمیر کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس کا آغاز متوقع ہے۔
ادھر، انہوں نے بتایا کہ ڈیلٹا پارک بنیاری کی اپ گریڈیشن۲ء۵۰کروڑ روپے، گرورا پارک۴ء۷۰ کروڑ روپے، اور ننگلی، سوپور میں ایکو پارک کی تعمیر۴ء۹۰ کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس دو واچ ٹاورز تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ رواں سال مزید چار سی سی ٹی وی نصب کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق وولر جھیل کے دائرہ اختیار میں ولو کے درختوں کی کٹائی رہائشی ماحول کی بہتری اور جھیل کی بحالی کے اقدام کے طور پر کی جا رہی ہے، جو منظور شدہ جامع مینجمنٹ ایکشن پلان (سی میپ) کے مطابق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل کو جنگلات کی کٹائی نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ اقدام جنگلاتی زمین کے انحراف یا تباہی پر مشتمل نہیں بلکہ ایسی نباتات کو ہٹانے سے متعلق ہے جو جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ یا مداخلت کار ہیں، تاکہ وولر جھیل کی اصل ویٹ لینڈ حیثیت بحال کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وولر جھیل اور اس کے اطراف میں ولو کے درختوں کی تعداد۱۹سے۲۱ لاکھ کے درمیان ہے، تاہم سی میپ کے تحت تمام درختوں کو ہٹانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق مرحلہ وار اور منتخب انداز میں ان کی کٹائی کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں۱ء۹۱لاکھ درختوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے تقریباً۱ء۳۵لاکھ درخت پہلے ہی ہٹائے جا چکے ہیں۔ ان اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً۳۱ء۹۵کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، حکام نے بتایا۔
تاہم جھیل کے کیچمنٹ علاقوں میں شجرکاری بھی کی جا رہی ہے، جو محکمہ جنگلات کے اشتراک سے کیپیکس اور کیمپا اسکیموں کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق۲۰۱۲ میں اتھارٹی کے قیام کے بعد سے اب تک۱۹لاکھ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وولر جھیل کے بانڈی پورہ کیچمنٹ میں۲۹۰۰ہیکٹر سے زائد رقبے پر شجرکاری، پودے لگانے اور مٹی کے تحفظ کے اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے ڈھلوانوں کے استحکام، کٹاؤ میں کمی اور جھیل میں داخل ہونے والی گاد کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ (ایجنسیاں)










