نئی دہلی، 10 اپریل (یو این آئی) نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے جمعہ کو دیوناگری اور فارسی دونوں رسم الخط میں سندھی زبان میں آئین کا تازہ ترین ایڈیشن جاری کیا۔ نائب صدر نے ‘سندھی زبان کے دن کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سندھی بولنے والی کمیونٹی کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے اور اس کی ادبی روایت ویدانتی فلسفے اور صوفیانہ افکار کے انوکھے سنگم کی عکاسی کرتی ہے، جو اتحاد، محبت اور بھائی چارے کی عالمگیر اقدار کو فروغ دیتی ہے۔
مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی بار سندھی زبان میں، خاص طور پر دیوناگری رسم الخط میں آئین کی اشاعت، لسانی شمولیت کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ قوم کی زندہ روح ہے، جو اس کی امنگوں کا احاطہ کرتی ہے، حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور جمہوری طرزِ حکمرانی کی رہنمائی کرتی ہے۔
نائب صدرجمہوریہ نے حکومت کی جانب سے آئین کو متعدد ہندوستانی زبانوں میں دستیاب کرانے کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات شہریوں اور نظامِ حکومت کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ اس سے لوگ اپنی مادری زبان میں آئین کو سمجھ پاتے ہیں، جس سے جمہوری شراکت اور اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے بوڈو، ڈوگری، سنتھالی، تمل، گجراتی اور نیپالی جیسی زبانوں میں آئین کی دستیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں ہندوستان کے لسانی تنوع کا احترام کرتی ہیں۔
سندھی کمیونٹی کے تاریخی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ تقسیم کے بعد کے مشکل وقت میں یہ زبان استقامت اور اتحاد کی علامت رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھی زبان کو 1967 میں 21 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا گیا تھا، جس سے اس کی ثقافتی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کا تحفظ یقینی ہوا۔
مسٹر رادھا کرشنن نے آئین کو علاقائی زبانوں میں دستیاب کرانے کے لیے وزارتِ قانون و انصاف بالخصوص علاقائی زبان کے حکام کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایسی پہل شہریوں کو بااختیار بنانے اور سال 2047 تک ‘وکست بھارت’ کے وژن کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال، راجستھان اسمبلی کے اسپیکر واسودیو دیونانی، لوک سبھا رکن پارلیمنٹ شنکر لالوانی اور سکریٹری قانون سازی ڈاکٹر راجیو منی سمیت دیگر معززین موجود تھے۔










