نئی دہلی، 10 اپریل (یو این آئی) دہلی- دہرادون اقتصادی راہداری (اکنامک کوریڈور) کے گرد و نواح میں جنگلاتی حیات خود کو نئے ماحول کے مطابق ڈھال رہی ہے۔
اس بات کا انکشاف نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی ) اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیوآئی آئی ) کی رپورٹ میں ہوا ہے۔ ‘لینڈ اسکیپس ریکنیکٹڈ’ نامی اس رپورٹ میں کچھ ایسی نایاب اور ڈیٹا پر مبنی معلومات شامل ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ہائی وے کا انفراسٹرکچر جانوروں کے بکھرے ہوئے ٹھکانوں کو دوبارہ جوڑ سکتا ہے اور شمالی ہندوستان کے مصروف ترین سڑکوں کے نیٹ ورک پر جانوروں کی محفوظ نقل و حمل کو ممکن بنا سکتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی حساس ‘شوالک رینج’ میں پھیلا ہوا گنیش پور اور آشاروڑی کے درمیان 18 کلومیٹر کا یہ علاقہ ہاتھی، شیر، گریٹر ہارن بل اور کنگ کوبرا جیسی مشہور اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کا مسکن ہے۔ دہائیوں سے سڑکوں کے نیٹ ورک کی توسیع کی وجہ سے جانوروں کے یہ ٹھکانے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے خطرے سے دوچار تھے، لیکن اس راہداری کا ڈیزائن اب اس پرانے رجحان کو بدل رہا ہے۔
اس تبدیلی کے مرکز میں تقریباً 11 کلومیٹر طویل خصوصی ‘وائلڈ لائف انڈر پاسز’ ہیں، جنہیں 20 کلومیٹر کے ایک حصے میں جوڑا گیا ہے۔ یہ حصہ ایشیا کے سب سے بڑے ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈورز میں سے ایک ہے۔ زمین سے چھ سے سات میٹر بلندی پر بنے یہ ڈھانچے ہر سائز کے جانوروں کو تیز رفتار ٹریفک کے نیچے سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے کی سہولت دیتے ہیں۔
محققین نے 40 دنوں کی نگرانی کے دوران 150 کیمرہ ٹریپس اور 29 ایکوسٹک سینسرز لگائے، جن سے 1.11 لاکھ سے زیادہ تصاویر حاصل ہوئیں۔ ان میں سے 40,000 سے زیادہ تصاویر میں 18 مختلف جنگلی انواع کو ان انڈر پاسز کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ماہرین نے اسے جنگلی حیات کے موافق انفراسٹرکچر کا "واضح ثبوت” قرار دیا ہے۔ ان راستوں سے اکثر سنہری گیدڑ، نیل گائے، سانبھر کے جھنڈ، چیتل اور ہندوستانی خرگوش جیسے چھوٹے جانور باقاعدگی سے گزرتے ہوئے دیکھے گئے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس علاقے کے سب سے بڑے زمینی جانور یعنی ہاتھیوں کو ان راہداریوں کا استعمال کرتے ہوئے 60 بار ریکارڈ کیا گیا، جو نئے ڈھانچے کی قبولیت کا بڑا اشارہ ہے۔ اس مطالعے میں آواز جیسے غیر محسوس لیکن اہم عنصر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جہاں کچھ جانور ٹریفک کے شور سے بے نیاز نظر آئے، وہیں ہاتھیوں اور ہرنوں سمیت زیادہ حساس جانوروں نے پرسکون علاقوں کو ترجیح دی۔
نتائج بتاتے ہیں کہ جب انفراسٹرکچر قدرتی مناظر کے مطابق بنایا جاتا ہے، تو جنگلی حیات مثبت ردعمل دیتی ہے۔ آمد و رفت کو آسان بنانے کے علاوہ، یہ راہداری انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ٹکراؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ مطالعہ اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ ترقی اور تحفظ ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔ دہلی-دہرادون اقتصادی راہداری اب ایک مثالی نمونے کے طور پر کام کر سکتی ہے، جہاں سڑکیں علاقوں کو تقسیم نہیں کرتیں بلکہ انہیں آپس میں جوڑتی ہیں۔










