خطے میں دیرپا امن کے لیے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہیں‘عوام شدیدتکالیف میں تھے:وزارت خارجہ
جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے‘ جنگ بندی کے بعد توانائی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۸؍اپریل
بھارت نے بدھ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہیں۔
وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے اپنے بیان میں کہا’’ہم اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن کا باعث بنے گی۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی مسلسل کہتے آئے ہیں، کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری جاری تنازع کو جلد ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں‘‘۔
بیان میں کہا گیا’’اس تنازع نے پہلے ہی عوام کو شدید تکالیف میں مبتلا کیا ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت اور عالمی تجارت کی روانی بلا رکاوٹ جاری رہے گی‘‘۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جس میں بحری جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔
ادھروزیر خارجہ ایس جے شنکر۱۱ سے۱۲؍اپریل تک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ کریں گے، جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی وقفے کے اعلان کے چند روز بعد ہو رہا ہے۔
یہ تنازع نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کر چکا ہے، جس کے اثرات بھارت کے اہم توانائی شراکت داروں، خصوصاً یو اے ای، پر بھی پڑے ہیں اور سپلائی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، ایسے میں جے شنکر کے اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کا جائزہ لینے اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات ہیں۔ ساتھ ہی توانائی سلامتی اور خطے کی تازہ صورتحال پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق’’دورے کے دوران وزیر خارجہ یو اے ای کی قیادت سے ملاقات کریں گے تاکہ دو طرفہ تعاون کا جائزہ لیا جا سکے اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا جا سکے‘‘۔
ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث یو اے ای کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں تہران پر حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد یو اے ای میں حبشان گیس فیلڈ پر گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران کم از کم دو مرتبہ کارروائیاں متاثر ہوئیں۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی، جس کا اعلان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کیا، کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقع ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
اس دورے کے دوران جے شنکر یو اے ای کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور موجودہ سکیورٹی صورتحال، جنگ بندی کی پائیداری اور دیرپا امن کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔
یہ دورہ جے شنکر کے غیر ملکی سفر کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔ وہ نئی دہلی سے روانہ ہو کر پہلے ماریشس جائیں گے، جہاں وہ انڈین اوشن کانفرنس میں شرکت کے علاوہ وہاں کی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے، جس کے بعد وہ یو اے ای کا دورہ کریں گے۔
اس دوران امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ بندی کو ایک ’نازک جنگ بندی‘ قرار دیتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے لیے ’نیک نیتی‘کے ساتھ مذاکرات کرے۔
ہنگری کے دارالحکومت بوڈا پیسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےجے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اگر ’ایرانی نیک نیتی کے ساتھ ہمارے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوں‘ تو ایک (طویل مدتی) معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران ’اُس نازک جنگ بندی کو عملی شکل اختیار کرنے سے روکتا ہے، جو ہم نے قائم کی ہے، تو پھر اسے خوش ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔‘
دریں اثنا، ایرانی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ جے ڈی وینس ایران سے متعلق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی قیادت کریں گے، تاہم اس بارے میں تاحال واشنگٹن کی جانب سے کسی باضابطہ تصدیق یا بیان سامنے نہیں آیا۔
دریں اثنا یورپی رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے یورپی دارالحکومتوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ معاہدے کا کریڈٹ کس کو دیا جائے اور آئندہ کیا اقدامات ہونے چاہییں۔
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی ’خطے اور دنیا کے لیے ایک لمحاتی سکون کا باعث بنے گی‘۔انھوں نے شراکت دار ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش کریں۔‘
سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ’جنگ بندیاں ہمیشہ خوش آئند خبر ہوتی ہیں‘۔ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اُن کی حکومت ’اُن لوگوں کی تعریف نہیں کرے گی جو دنیا کو آگ لگانے کے بعد محض ایک بالٹی لے کر (آگ بجھانے کے لیے) سامنے آ جائیں۔‘
یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی نے کہا کہ یہ ’اہم‘ ہے کہ امریکا نے ’یہ سفارتی قدم اٹھایا‘۔ انھوں نے زور دیا کہ جنگ کے بعد کی دنیا سے متعلق فیصلے کرتے وقت ’ہر ملک کے مفادات‘ کو مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔
اس بیچ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبررساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تہران میں صفائی اور تعمیر نو کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہو گیا ہے۔
تسنیم نے تہران کے ایک ضلعی میئر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ شہر میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا سڑکوں پر پھیلا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور سڑکیں دوبارہ کھولی جا رہی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے زمین کو ہموار کیا جا رہا ہے۔










