رپورٹ میں متعدد جھیلوں کے لیے محدود مالی مختص اور جامع تحفظاتی منصوبہ بندی کی کمی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے
ویب ڈیسک
سری نگر؍۶؍اپریل
کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے جموں و کشمیر میں جھیلوں اور آبی ذخائر کی بگڑتی ہوئی حالت کو اجاگر کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کئی جھیلیں یا تو غائب ہو چکی ہیں یا سکڑ گئی ہیں۔
یہ نتائج اسمبلی میں پیش کردہ تازہ آڈٹ رپورٹ کا حصہ ہیں، جس میں آبی ذخائر کے تحفظ اور انتظام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
آڈٹ کے مطابق، بعض جھیلیں تقریباً خشک پائی گئیں یا اب نظر نہیں آتیں، جبکہ دیگر کے سائز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ میں متعدد جھیلوں کے لیے محدود مالی مختص اور جامع تحفظاتی منصوبہ بندی کی کمی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
یہ مشاہدات طویل مدتی ماحولیاتی استحکام اور تحفظاتی اقدامات کی تاثیر پر تشویش پیدا کرتے ہیں۔
دریں اثنا، سی اے جی نے نشاندہی کی ہے کہ جموں و کشمیر حکومت کا۱۹۸۰سے چار دہائیوں پر پھیلا ہوا 1.24 لاکھ کروڑ روپے کا اخراج مقننہ کی منظوری اور باقاعدگی کے زیر التواء ہے، جو عوامی وسائل کے انتظام کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔
جموں و کشمیر نے ابھی تک۱۹۸۰ سے۲۰۲۰ کے درمیان ہونے والے 1.24 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے اضافی اخراجات کو باقاعدہ نہیں کیا ہے، جیسا کہ سی اے جی نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے مالی سال مارچ۲۰۲۴ کو ختم ہونے والے سال کے مالیات پر اپنی رپورٹ میں کہا ہے۔
بجٹ میں مختص رقم سے زائد اضافی اخراجات کو باقاعدہ بنانے کے لیے ریاستی مقننہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
جموں و کشمیر اور لداخ اکتوبر۲۰۱۹میں سابقہ ریاست کی تنظیم نو کے بعد الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقے بن گئے۔’’چونکہ۱۹۸۰۔۸۱ کے بعد سے ایپروپریشن اکاؤنٹس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بحث نہیں ہوئی تھی، اس لیے۱۹۸۰۔۸۱سے۲۰۱۹۔۲۰ (یکم اپریل۲۰۱۹تا۳۰؍۲۰۱۹) کے دوران سابقہ ریاست جموں و کشمیر سے متعلق مجموعی طور پر 1,24,004.41 کروڑ روپے کا اضافی اخراج ابھی تک باقاعدہ نہیں کیا گیا ہے،” رپورٹ میں کہا گیا۔
مرکزی آڈیٹر نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اخراجات کا طویل عرصے تک باقاعدہ نہ ہونا بجٹ اور مالی کنٹرول کے نظام کو کمزور کرتا ہے اور عوامی وسائل کے انتظام میں مالی بے ضابطگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ آڈٹ مشاہدات کے جواب میں، جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ خزانہ نے فروری۲۰۲۵ میں کہا کہ اضافی اخراجات ایک’میراثی مسئلہ‘ ہیں اور یہ مقننہ کے ذریعے باقاعدہ کر دیے جائیں گے۔
سی اے جی رپورٹ نے کئی دہائیوں سے زیر التواء قانونی جانچ کو اجاگر کیا ہے، کیونکہ۱۹۸۰۔۸۱ کے بعد سے ایپروپریشن اکاؤنٹس کا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جائزہ نہیں لیا گیا، جس سے باقاعدگی کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔
اس میں مزید کہا گیا ’’اضافی اخراجات کا طویل عرصے تک باقاعدہ نہ رہنا بجٹ اور مالی کنٹرول کے نظام کو خراب کرتا ہے اور عوامی وسائل کے انتظام میں مالی بے ضابطگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے‘‘۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اضافی اخراجات ۱۹۸۰؍اور۲۰۱۹ کے درمیان سال بہ سال کل۵۴۳ گرانٹس اور ایپروپریشنز پر کیے گئے، جس میں خاص طور پر۱۹۹۰ کی دہائی کے آخر اور۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں زیادہ اخراجات ریکارڈ کیے گئے، جن میں ۲۰۰۵۔۰۶میں 12,954.06 کروڑ روپے اور 2003-04 میں 9,770.53 کروڑ روپے شامل ہیں۔
اس نے مزید نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں بھی، ریاست کی تنظیم نو سے پہلے، اضافی اخراجات جاری رہے، جس میں 2019-20 (یکم اپریل تا 30 اکتوبر 2019) کے لیے 5,311.53 کروڑ روپے ریکارڈ کیے گئے۔










