ڈی آئی پی آر
جموں؍۶؍ اپریل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بحالی امدادی اسکیم(آر اے ایس) کے تحت جموں ڈویژن کے۱۲۴ مستفیدین میں تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ تقرری کے عمل کو تیز اور شفاف بنانے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
کنونشن سینٹر جموں میں منعقدہ تقریب کے دوران، وزیر اعلیٰ نے تعینات افراد کو تقرری نامے حوالے کیے اور اس موقع پر موجود شرکاء سے خطاب بھی کیا۔
عمرعبداللہ نے مستفیدین کو درپیش مشکلات اور تقرری کے عمل میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایس آر او ۴۳میں ترمیم کا مقصد عمل کو تیز کرنا تھا، تاہم اس کے نفاذ کے دوران کچھ خامیاں سامنے آئی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اس اسکیم میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مستقبل میں تقرریوں میں تاخیر نہ ہو اور عمل بروقت مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسکیم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت عام طور پر خوشی کا موقع ہوتی ہے، لیکن آر اے ایس کے تحت یہ تقرریاں ایک ناقابل تلافی ذاتی نقصان کے بعد ملتی ہیں، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر تقرری نامے دینے کے لیے اس لیے موجود ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور انہیں یہ احساس دلایا جا سکے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نو تعینات افراد کو دیانتداری اور لگن کے ساتھ عوام کی خدمت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کا بہترین موقع ملا ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ہر مشکل میں ان کے ساتھ ہے اور ضرورت پڑنے پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ اگرچہ کسی عزیز کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم ایسی تقرریاں متاثرہ خاندانوں کو سہارا دینے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اس موقع پر کمشنر سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، ڈپٹی کمشنر جموں راکیش منہاس سمیت دیگر اعلیٰ افسران، مستفیدین اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔










