ایل جی کی ڈی سیز اور ایس ایس پیز کے ساتھ میٹنگ‘منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کیلئے ہمہ جہتی حکمت عملی پر زور
’ ہمیں جموںکشمیر میں اپنے نوجوانوں کے تحفظ اور ایک صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ نظام اپنانا ہوگا ‘
ڈی آئی پی آر
جموں؍ یکم اپریل
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے آج جموں و کشمیر میں منشیات کے ناسور کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘پالیسی اپنانے کی ہدایت دی۔
سنہا لوک بھون جموں میں ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز اور سول و پولیس انتظامیہ کے سینئر افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی پر زور دیا، جس میں منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا، ممکنہ صارفین کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی مہمات چلانا، علاج، مشاورت اور بحالی کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک یونین ٹیریٹری بنایا جا سکے۔
سنہا نے کہا’’منشیات کے خلاف کارروائی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے تحفظ اور ایک صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ نظام اپنانا ہوگا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نچلی سطح پر انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنانے اور منشیات فروشوں کے خلاف مربوط اور سخت کارروائی کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت تین ماہ پر مشتمل خصوصی مہم کے لیے طے کی گئی سرگرمیوں پر بھی غور کیا گیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے سینئر افسران پر زور دیا کہ وہ اس مہم کی قیادت کریں اور معاشرے کے ہر طبقے اور تمام متعلقہ فریقین کی شمولیت کو یقینی بنائیں تاکہ اسے عوامی تحریک میں تبدیل کیا جا سکے۔
اس سے پہلے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ سرحدی گاؤں بھارت کی پہلی دفاعی لائن ہیں اور وہاں کے باشندے وہ پہلا چہرہ ہیں جو کسی بیرونی شخص کو نظر آتا ہے۔
سنہا نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ ہمت، قربانی اور صبر میں سب سے آگے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحات میں بھی سرفہرست ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سرحدی گاؤں کے باشندے ہر روز ملک کی خدمت کر رہے ہیں اور اس خدمت کا اعتراف صرف الفاظ میں نہیں بلکہ ہر خاندان کے معیارِ زندگی میں بہتری کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔
وہ جموں کے سرحدی گاؤں مکوال میں وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت منعقدہ ایک عوامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
سنہا نے حکام کو ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی خاندان پیچھے نہ رہ جائے اور کسی بھی حقیقی ضرورت کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں موجودہ اسکیمیں ناکافی ہوں وہاں ترجیحی بنیادوں پر حل تلاش کیے جائیں کیونکہ سرحدی علاقوں کی ترقی ان کے لیے جذبہ، عزم اور ذمہ داری ہے۔
ایل جی نے زور دیا کہ حکومت کے وعدوں اور عوام کو ملنے والے فوائد کے درمیان کوئی خلا نہیں ہونا چاہیے اور ہر منصوبے کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے دوران یہ یاد رکھا جائے کہ سرحدی گاؤں کے لوگ صرف سرحد پر نہیں رہتے بلکہ ملک کی حفاظت بھی کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سرحدی گاؤں ملک کے آخری نہیں بلکہ پہلے گاؤں ہیں اور وہاں رہ کر قوم کی خدمت کرنا غیر معمولی جرات کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سرحدی گاؤں نظر انداز کیے جاتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور مرکز کی قیادت میں ان علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سنہا نے ہدایت دی کہ تمام سرکاری افسران رکاوٹیں دور کریں اور مکوال سمیت تمام سرحدی گاؤں تک ضروری وسائل پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ ان علاقوں کو شہروں سے بھی زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں اور جموں ضلع کے تمام۵۴۱سرحدی گاؤں کو یکساں رفتار اور وژن کے ساتھ ترقی دی جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی گاؤں کے لیے مخصوص نوڈل افسران مقرر کرنے اور وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے تحت ماہانہ پیش رفت رپورٹ جمع کرنے کی بھی ہدایت دی۔
سنہا نے عزم ظاہر کیا کہ ہر سرحدی گاؤں کو بہتر سڑکوں، مکمل فعال اسکولوں اور نوجوانوں کے لیے مواقع سے جوڑا جائے گا، تاکہ انہیں ماڈل گاؤں میں تبدیل کیا جا سکے۔
ایل جی نے کہا کہ مکوال کے ہر بچے کو ملک کے بڑے شہروں جیسی تعلیم، ہر کسان کو بہتر بیج، آبپاشی اور منڈی تک رسائی فراہم کی جائے گی جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار، تربیت اور مالی معاونت کو فروغ دیا جائے گا تاکہ ہجرت میں کمی آئے اور مقامی آمدنی بڑھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں سرحدی علاقوں میں سڑک، بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور غربت میں کمی کے ساتھ ساتھ خود روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔
تقریب کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا، جن میں ماڈل آنگن واڑی مرکز، اسپورٹس سہولیات، کمیونٹی ہال، ہیلتھ سب سینٹر اور ویٹرنری ڈسپنسری شامل ہیں، جبکہ نوجوانوں اور مستفید افراد کو تقرری نامے اور منظوری خطوط بھی فراہم کیے گئے۔
اس موقع پر عوام کی جانب سے اٹھائے گئے مطالبات پر لیفٹیننٹ گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔










