’ دنیا جنگ‘ بے چینی اور بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کا سامنا کر رہی ہے‘ہماری مضبوط خارجہ پالیسی نے صورتحال کوقابو میں رکھا ‘
کانگریس ’سیاسی گِدھ‘ ہےجو حالات کے بگڑنے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے:وزیر اعظم مودی
ایجنسیز
تھراڈ (گجرات)؍۳۱مارچ
وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کہا کہ جب دنیا جنگ، بے چینی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے دوچار ہے، بھارت نے مضبوط خارجہ پالیسی اور عوام کے اتحاد کے سبب صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے۔
گجرات کے واؤ تھراڈ ضلع کے نانی گاؤں میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری مغربی ایشیا کے تنازع نے ہر ملک کو متاثر کیا ہے، تاہم بھارت نے اس صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا۔
مودی نے کہا’’جب دنیا جنگ، بے چینی اور بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کا سامنا کر رہی ہے، بھارت نے مضبوط خارجہ پالیسی اور عوام کے اتحاد کے ذریعے اس صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے خوف اور گھبراہٹ پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کانگریس کو ’سیاسی گِدھ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حالات کے بگڑنے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
وزیر اعظم نے کہا’’آج کانگریس عوام کو اُکسانے میں مصروف ہے۔ سیاسی گدھوں کی طرح وہ اس صورتحال کے مزید خراب ہونے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے‘‘۔
مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً۱۰فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن مرکزی حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے کہ لوگ پیٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں پر قطاریں لگانے پر مجبور ہو جائیں۔
وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرے گا۔
اپوزیشن پر تنقید جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں، جبکہ بھارت ہر بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا’’بھارت کسی بھی بحران کا سامنا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، لیکن کانگریس عوام کو اکسانے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
اس دوران مغربی ایشیا کی مسلسل بدلتی صورتحال کے درمیان حکومت بلا تعطل توانائی کی فراہمی، محفوظ سمندری آپریشنز، مغربی ایشیا کے خطے میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو ضروری امداد کی فراہمی اور اہم شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فعال طور پر مربوط اقدامات کر رہی ہےپیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے منگل کو مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے پی این جی کنکشنز میں تیزی لانے کو کہا گیا ہے اور ‘قومی پی این جی مہم۲ء۰کی مدت۳۰جون تک بڑھا دی گئی ہے۔ مارچ کے مہینے میں۳ء۱لاکھ سے زیادہ کنکشنز میں گیس کی سپلائی شروع کی گئی اور۲ء۱لاکھ سے زیادہ نئے کنکشنز شامل کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ سے روزانہ اوسطاً۵۰ لاکھ سے زیادہ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی۲۳مارچ سے اب تک مہاجر مزدوروں کو۵ کلو گرام والے۳لاکھ۲۰ ہزار سلنڈر فروخت کیے گئے ہیں۔ صرف ہفتہ کے روز ہی۶۳ہزار سلنڈر فروخت کیئے گئے ہیں۔ حکومت نے افواہوں پر قابو پانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پریس بریفنگ کے ذریعے درست معلومات عام کریں۔
بیان کے مطابق اب تک۹۵۹سے زائد ہندوستانی ملاحوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی گئی ہے، جن میں سے گزشتہ۲۴گھنٹوں میں۹ملاح واپس آئے ہیں۔ پورے ہندوستان میں بندرگاہوں کے آپریشنز معمول کے مطابق ہیں اور کسی قسم کے ہجوم یا رش کی اطلاع نہیں ہے۔ مغربی ایشیا کا بحران شروع ہونے والے دن یعنی۲۸فروری سے اب تک۵ء۷۲لاکھ سے زیادہ مسافر ہندوستان لوٹ چکے ہیں۔ پورے مغربی ایشیا کے خطے میں ہندوستانی مشنوں کی ہیلپ لائنز چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام ریفائنریاں اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھی کافی ذخائر دستیاب ہیں۔ ریفائنریوں سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔










