تل ابیب / واشنگٹن، 30 مارچ (یواین آئی )اسرائیل کے سیاسی افق پر اس وقت ہلچل مچ گئی جب صدر آئزک ہرزوگ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے دائر کردہ معافی کی درخواست پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے اسے وزارتِ انصاف کو واپس بھیج دیا۔ اس اقدام کو نیتن یاہو کے لیے ایک بڑے قانونی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیلی صدر کے قانونی مشیر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حساس معاملے پر کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلےجاری عدالتی کارروائی کے دوران معافی دینے کے اختیارات سے متعلق ماضی کی مثالوں اور اضافی قانونی پہلوؤں کو سمجھنا اہم ہے، خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں سکیورٹی اور سفارتی عوامل بھی شامل ہوں۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست کی واپسی کا مقصد صرف قانونی عمل کو مکمل کرنا ہے، اسے ابھی "حتمی انکار” تصور نہ کیا جائے۔
اسی دوران امریکی سیاسی منظر نامے کے معروف مبصر ٹکر کارلسن نے نیتن یاہو کی مبینہ کرپشن پر ایک دستاویزی فلم جاری کر کے جلتی پر تیل کا کام کر دیا ہے۔ اس فلم میں اسرائیلی پولیس کی تحقیقات سے حاصل کردہ 1,000 سے زائد آڈیو اور ویڈیو ٹیپس شامل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس فلم کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسرائیل میں اس کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس دستاویزی فلم نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس سے نیتن یاہو پر سیاسی دباؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے۔










