ایجنسیز
جموں؍۳۰ مارچ
سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز حکومت اور اپوزیشن سے مشترکہ کوششوں کے ذریعے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی طاقت اور وقار کی بحالی پر زور دیا۔
محبوبہ مفتی نے یہ بات اسپیکر گیلری سے اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے بعد کہی، جو۲۰۱۸ میں بی جے پی کی حمایت یافتہ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایوان میں ان کی پہلی حاضری تھی۔
پی ڈی پی صدر کچھ دیر سوالیہ وقفہ کے دوران موجود رہیں۔ ان کی جماعت کے چار ارکان اسمبلی بھی موجود تھے، جن میں سے ایک رفیق احمد نائک نے جموں و کشمیر میں سیاحت سے متعلق ایک سوال کے جواب پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی’تسلی بخش اور مفصل‘ وضاحت کو سراہا۔
محبوبہ مفتی نے کہا’’آج میں نے اسمبلی کا دورہ کیا اور اچھا محسوس ہوا۔ اس نے خاص طور پر مجھے اپنے والد (مفتی محمد سعید) کی یاد دلائی۔ ہماری اسمبلی ایک بہت اہم ادارہ ہے۔ تاہم۲۰۱۹کے بعد کسی نہ کسی طرح اس کی اہمیت اور اختیار کم ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے اس سال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جب مرکز نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی جماعت اس ادارے کی تدریجی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی اور کہا’’پی ڈی پی یقیناً اپنا کردار ادا کرے گی، لیکن برسرِ اقتدار جماعت (نیشنل کانفرنس) پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ کوششوں سے جموں و کشمیر اسمبلی کی کھوئی ہوئی طاقت بحال کی جا سکتی ہے‘‘۔
محبوبہ نے مزید کہا کہ پی ڈی پی نے ایوان میں کئی بل پیش کیے ہیں جن کے لیے ریاستی درجہ ضروری نہیں، کیونکہ انہیں ’’موجودہ یونین فریم ورک کے اندر‘‘ منظور کیا جا سکتا ہے، جیسے نئے ڈویژن اور اضلاع کا قیام اور برسوں سے چھوٹی زمینوں پر آباد غریب افراد کو ملکیتی حقوق دینا۔
پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے، خاص طور پر روزگار، ریزرویشن اور ریگولرائزیشن کے حوالے سے۔
محبوبہ نے کہا’’اپنے دورِ حکومت میں ہم نے اس مسئلے (ڈیلی ویجرز) کو کسی حد تک حل کیا تھا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس وقت متعارف کرائے گئے فریم ورک کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ وہ بمشکل گزر بسر کر رہے ہیں‘‘ اور مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو سیاسی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے۔
مغربی ایشیا کے بحران پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران قربانی کے جذبے کے ساتھ لڑ رہا ہے اور اس کے فوجی اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہیں۔
پی ڈی پی صدر نے کہا’’دوسری جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے فوجی لڑنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ ایران آخرکار فاتح بن کر ابھرے گا۔‘‘










