اب تک۳۵۴۰ء۱۵ میگاواٹ ‘جو کہ شناخت شدہ صلاحیت کا تقریباً۲۴فیصد ہے‘ حاصل کیا جا چکا ہے:حکومت
ایجنسیز
جموں؍۲۷مارچ
جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہائیڈرو پاور کی مجموعی ممکنہ صلاحیت تقریباً۱۸ہزارمیگاواٹ ہے، جس میں سے قریب۱۵ہزارمیگاواٹ کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اور حکومت۲۰۳۵تک اپنی نصب شدہ صلاحیت کو تین گنا بڑھا کر تقریباً۱۱ہزارمیگاواٹ تک لے جانے کیلئے تیزی سے کام کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں رکن اسمبلی جاوید اقبال کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا’’جموں و کشمیر میں ہائیڈرو پاور کی مجموعی ممکنہ صلاحیت تقریباً۱۸ہزار میگاواٹ ہے، جس میں سے تقریباً۱۵ہزارمیگاواٹ کی نشاندہی کی جا چکی ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اب تک۳۵۴۰ء۱۵ میگاواٹ ‘جو کہ شناخت شدہ صلاحیت کا تقریباً۲۴فیصد ہے‘ حاصل کیا جا چکا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اس میں یو ٹی سیکٹر کے۱۳ منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی صلاحیت۱۱۹۷ء۴ میگاواٹ ہے، مرکزی سیکٹر کے چھ منصوبے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت۲۲۵۰میگاواٹ ہے، اور آزاد بجلی پیدا کرنے والوں(آئی پی پی )یا نجی شعبے کے۱۲منصوبے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت۹۲ء۷۵میگاواٹ ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ دہائی کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے، اور یو ٹی۲۰۲۵تک اپنی ہائیڈرو پاور صلاحیت کو تین گنا کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’اس روڈ میپ میں زیر تعمیر چھ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں سے۳۰۶۳ء۵ میگاواٹ اور ٹینڈرنگ، الاٹمنٹ، ڈی پی آر یا منظوری کے مراحل میں شامل آٹھ منصوبوں سے۴۵۰۷ میگاواٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران نجی شعبے کے منصوبوں سے مزید۱۰۰سے۱۵۰میگاواٹ حاصل ہونے کی توقع ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح۲۰۳۵تک جموں و کشمیر کی مجموعی نصب شدہ ہائیڈرو پاور صلاحیت تقریباً۱۱ہزارمیگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کیے جانے کے پس منظر میں جاری منصوبوں کی تعمیر میں تیزی آئی ہے اور باقی ماندہ ہائیڈرو پاور صلاحیت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے ممکنہ ذخیرہ اندوزی منصوبوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
موجودہ فعال صلاحیت کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یو ٹی کے زیر انتظام ہائیڈرو پاور منصوبے۱۱۹۷ء۴میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں، جن میں بگلیہار اوّل اور دوم (ہر ایک۴۵۰میگاواٹ)، لوئر جہلم (۱۰۵میگاواٹ) اور اپر سندھ منصوبے شامل ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ این ایچ پی سی کے تحت مرکزی سیکٹر کے منصوبے۲۲۵۰میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں، جن میں سلال(۶۹۰میگاواٹ)، اُوڑی اوّل(۴۸۰ میگاواٹ)، دولہستی(۳۹۰میگاواٹ)، کشن گنگا(۳۳۰ میگاواٹ) اور اُوڑی دوم(۲۴۰میگاواٹ) شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’نجی شعبے کے منصوبے۹۲ء۷۵میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں، جو ڈوڈہ، پونچھ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، گاندربل، بڈگام، اننت ناگ اور رام بن جیسے اضلاع میں چھوٹے یونٹس کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہے










