ایجنسیز
جموں؍۲۷مارچ
جموں و کشمیر اسمبلی اجلاس کا دوسرا مرحلہ جمعہ کے روز ہنگامہ آرائی کے درمیان شروع ہوا، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین اسمبلی نے جموں میں نیشنل لاء یونیورسٹی (این ایل یو) کے قیام کے مطالبے پر احتجاج کیا۔
ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی بی جے پی اراکین نے نیشنل لا یونیورسٹی کے پوسٹر اٹھا کر یہ مسئلہ اٹھایا اور نیشنل کانفرنس (این سی) کی قیادت والی حکومت سے وضاحت طلب کی۔ اپوزیشن اراکین نے اسمبلی کے اندر نعرے بازی کرتے ہوئے جموں میں این ایل یو کے فوری قیام کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے اراکین نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ایران پر ہونے والے حملے کی مذمت کی۔
بی جے پی اراکین نے ایوان میں نعرے لگاتے ہوئے مجوزہ یونیورسٹی کے مقام کے بارے میں حکومت سے جواب طلب کیا اور کہا کہ جموں طویل عرصے سے اہم تعلیمی اداروں سے محروم رہا ہے، اس لیے اس معاملے پر فوری فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن کی جانب سے مسلسل نعرے بازی کے باعث ایوان کی کارروائی کچھ وقت کے لیے متاثر رہی۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی اراکین نے الزام لگایا کہ حکومت نے بے روزگاری سے متاثرہ جموں و کشمیر میں۲۴ہزار ملازمتیں آؤٹ سورس کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
بی جے پی اراکین نے کہا، ہم اس مسئلے کو ایوان کے اندر اور باہر مسلسل اٹھاتے رہیں گے جب تک حکومت کی جانب سے واضح جواب نہیں دیا جاتا۔
مغربی ایشیا کے بحران پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر اسمبلی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور نیشنل کانفرنس کے اراکین اسے صرف ہماری اصل مانگ سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔










