ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۴مارچ
مرکزی حکومت نے مغربی ایشیا کے بحران پر غور کے لیے بدھ کے روز شام۵بجے کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کریں گے جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی بھی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ کیرالہ میں ایک پروگرام میں مصروف ہوں گے۔
یہ کل جماعتی اجلاس وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمنٹ میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بیان کے بعد طلب کیا گیا ہے۔
راجیہ سبھا میں اپنے خطاب کے دوران مودی نے کہا کہ حکومت نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایندھن، سپلائی چینز اور کھاد سمیت مختلف شعبوں پر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے سات بااختیار گروپ تشکیل دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے عالمی سطح پر سنگین توانائی بحران پیدا کر دیا ہے اور لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں، جبکہ ریاستی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ پر قابو پانے کی ہدایت دی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت تمام ممکنہ ذرائع سے گیس اور خام تیل حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ عمل آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کھاد کی مناسب فراہمی کے لیے ضروری تیاریاں کر لی گئی ہیں۔
ادھر کانگریس نے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان’خود ستائشی سے بھرپور ایک تیار شدہ متن‘تھا جس میں گزشتہ۱۱برسوں کی کامیابیوں کا ذکر کیا گیا۔
لوک سبھا میں اپنے خطاب میں مودی نے کہا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی عالمی مشکلات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں اور قوم کو چاہیے کہ وہ کووڈ۱۹کے دوران کی طرح تیار اور متحد رہے۔
وزیر اعظم نے ایندھن، کھاد، قومی سلامتی اور دیگر شعبوں پر ممکنہ اثرات کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا میں مقیم ہندوستانیوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ عام لوگوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
مودی نے کہا کہ اس بحران پر بھارت کی پارلیمنٹ کی طرف سے ایک متحد آواز دنیا تک پہنچنی چاہیے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ امن اور انسانیت کے لیے بھارت کا عزم غیر متزلزل ہے، جبکہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا بھارت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ تقریباً ایک کروڑ بھارتی خلیجی ممالک میں مقیم اور برسرِ روزگار ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بھارتی بحری عملہ ان سمندری راستوں پر کام کرتا ہے۔










