ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۳
سپریم کورٹ نے پیر کے روز ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے اینگمو کی جانب سے دائر اس عرضی کو نمٹا دیا، جس میں قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت وانگچک کی نظر بندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی وارالے پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مرکز نے۱۴مارچ کو وانگچک کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا ہے، اس لیے اس معاملے میں اب کچھ باقی نہیں رہا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے مرکز سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا حکومت وانگچک کی صحت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی نظر بندی پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے۔
مرکزی حکومت نے۱۴مارچ کو عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے این ایس اے کے تحت سونم وانگچک کی نظر بندی کو فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے، جو ان کی گرفتاری کے تقریباً چھ ماہ بعد عمل میں آیا۔
واضح رہے کہ وانگچک کو۲۶ ستمبر۲۰۲۵کو گرفتار کیا گیا تھا، جو لیہہ میں ریاستی درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبات پر ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دو دن بعد عمل میں آئی تھی۔
ان مظاہروں میں چار افراد ہلاک جبکہ۲۲ پولیس اہلکاروں سمیت۴۵سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔










