نئی دہلی، 18 مارچ (یو این آئی) راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے بدھ کے روز ایوان سے ریٹائر ہونے والے اراکین کو الوداع کہتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کو اختتام کے بجائے نئے رول اور ذمہ داریوں کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئے اراکین کو ذمہ داریاں سونپنے کی علامت ہے، جو اس ادارے کی وراثت کو نئے خیالات، توانائی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریٹائر ہونے والے اراکین کا تجربہ اور علم آنے والی نسل کے پارلیمنٹیرینز کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
نائب صدر نے کہا کہ "آج ہم اپنے کچھ معزز ساتھیوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، جو اس سال اپریل سے جولائی کے دوران اپنی مدتِ کار مکمل ہونے پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس عرصے میں 20 ریاستوں کے کل 59 اراکین ریٹائر ہوں گے، جن میں 9 خاتون اراکین شامل ہیں۔”
انہوں نے ایک تمل مقولے کا حوالہ بھی دیا جس کا مفہوم ہے کہ اگرچہ انسان ریٹائر ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اچھے کام وقت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائر ہونے والے اراکین کی عوامی خدمات اور لگن اس ادارے کی وراثت کا حصہ رہیں گی۔ ان کی مداخلتوں اور خیالات نے ایوان کی بحث و مباحثہ کو جلا بخشی اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا ہے۔ ریٹائر ہونے والی خاتون اراکین کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ ریٹائر ہونے والوں میں کئی ممتاز شخصیات اور تجربہ کار پارلیمنٹیرینز شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا ایک مقتدر رہنما ہیں، جن کی موجودگی نے ایوان کا وقار بڑھایا۔ کسانوں اور دیہی برادریوں کے حقوق کے لیے ان کی وابستگی نے ایوان کو اہم نقطہ نظر فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کو حزبِ اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھرگے کی قیادت اور تجربے سے بھی بھرپور فائدہ ملا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اپنے طویل اور شاندار پارلیمانی کیریر کے ساتھ، مسٹرکھرگے ایوان کے جمہوری نظم و نسق میں ایک اہم آواز رہے ہیں۔
مسٹر رادھا کرشنن نے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدتِ کار آئندہ 9 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ مسٹر ہری ونش نے ایوان کی کارروائی وقار، غیر جانبداری اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ چلائی ہے۔ صحافت اور عوامی مباحثوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے ہری ونش جی نے اپنے پرسکون مزاج اور پارلیمانی روایات سے تمام جماعتوں کے اراکین کا احترام حاصل کیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آئینی نظام کے تحت اس ایوان کے ایک تہائی اراکین ہر دو سال بعد ریٹائر ہوتے ہیں، جس سے ایوان کی ساخت میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ یہ نظام تسلسل کو یقینی بناتا ہے اور نئے اراکین کو اپنے تجربات شامل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ عمل حقیقت میں ہمارے متنوع ملک کی عکاسی کرتا ہے۔
مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ تمام ریٹائر ہونے والے اراکین ملک کے متنوع خطوں اور برادریوں کی نمائندگی کرنے والی ایک مضبوط آواز رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو قانون سازی کے کاموں کا طویل تجربہ ہے اور انہوں نے ایوان کے مباحثوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اپنی ریاستوں، برادریوں اور پوری قوم کی امنگوں کی نمائندگی کی ہے اور ان سے متعلق اہم معامالت کو اس ایوان میں اٹھایا ہے۔










