اس مرحلے پر مجرم کو کسی رعایت کا مستحکم نہیں سمجھا جا سکتا ہے :عدالت
ایجنسیز
چندی گڑھ؍۱۸مارچ
پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے۲۰۱۸کے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجی رام کی جانب سے عمر قید کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرحلے پر اسے اس رعایت کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا۔
سنجی رام، جو جنوری۲۰۱۸میں پیش آئے اس لرزہ خیز واقعے کے وقت مندر کا نگران تھا، کو پٹھان کوٹ کی سیشن عدالت نے۲۰۱۹میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بھتیجے پرویش کمار اور اسپیشل پولیس آفیسر دیپک کھجوریا کو بھی عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
جسٹس گرویندر سنگھ گل اور جسٹس رمیش کماری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے۶مارچ کو سنجی رام کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جس کا تین صفحات پر مشتمل حکم نامہ حال ہی میں منظر عام پر آیا۔
عدالت نے کیس کے میرٹ پر تبصرہ کیے بغیر کہا ’’یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس میں درخواست گزار کو اس مرحلے پر سزا کی معطلی کی رعایت دی جا سکے‘‘۔
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے رجسٹری کو ہدایت دی کہ سنجی رام کی سزا کے خلاف دائر مرکزی اپیل کو ستمبر میں حتمی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، کیونکہ وہ پہلے ہی کافی عرصہ حراست میں گزار چکا ہے۔
اپریل۲۰۱۸میں جموں و کشمیر کرائم برانچ کی جانب سے دائر۱۵صفحات پر مشتمل چارج شیٹ کے مطابق، خانہ بدوش برادری سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کو۱۰جنوری۲۰۱۸ کو اغوا کیا گیا، اسے ایک مقامی مندر میں قید رکھ کر چار دن تک نشہ آور ادویات دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں قتل کر دیا گیا۔
سنجی رام کی سزا معطلی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے سینئر وکیل ونود گھئی نے عدالت میں کہا کہ استغاثہ نے۱۱۴گواہوں کو پیش کیا، تاہم کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا جو اس کے ملوث ہونے کو ثابت کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنجی رام آٹھ سال سے زائد عرصہ قید میں گزار چکا ہے، اس لیے اسے رعایت دی جانی چاہیے۔
ریاست کی جانب سے سینئر وکیل آر ایس چیما پیش ہوئے جبکہ متاثرہ خاندان کی نمائندگی مندیپ سنگھ بسرا اور انوپیندر برار نے کی۔
چیما نے عدالت کو بتایا کہ جرم کی نوعیت نہایت سنگین تھی اور استغاثہ کے گواہوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملزم کا جرم واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے جرم ثابت ہونے کے بعد ملزم کو بے گناہی کا فائدہ حاصل نہیں رہتا، اس لیے اسے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
پٹھان کوٹ کی سیشن عدالت نے تین پولیس اہلکاروں کو بھی شواہد چھپانے اور تباہ کرنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ سنجی رام کے بیٹے وشال کو بری کر دیا گیا تھا۔
جون۲۰۱۹میں سیشن جج تیج وندر سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایک مجرمانہ سازش کے تحت ایک معصوم بچی کو اغوا، قید، نشہ آور ادویات دینے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بالآخر قتل کر دیا گیا، جو انتہائی سفاکانہ اور غیر انسانی عمل تھا۔
یہ معاملہ ملک بھر میں شدید عوامی غم و غصے کا باعث بنا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کو جموں و کشمیر سے منتقل کر کے پٹھان کوٹ کی عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا










