’بے روزگار ہونے کے بعد صرف تقریباً۷ فیصد گریجویٹس ہی ایک سال کے اندر مستقل ملازمت حاصل کر پاتے ہیں‘
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۷مارچ
اعظم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں۲۰سے۲۹سال کی عمر کے۶کروڑ۳۰لاکھ گریجویٹس میں سے تقریباً ایک کروڑ۱۰لاکھ بے روزگار ہیں، جبکہ گریجویشن کے ایک سال کے اندر صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی مستقل تنخواہ دار ملازمت حاصل کر پاتا ہے۔
’اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے روزگار ہونے کے بعد صرف تقریباً۷ فیصد گریجویٹس ہی ایک سال کے اندر مستقل ملازمت حاصل کر پاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نوجوان گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح خاصی بلند ہے‘۱۵سے۲۵سال کی عمر کے گروپ میں تقریباً۴۰فیصد جبکہ۲۵سے۲۹سال کے افراد میں یہ شرح۲۰فیصد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا’’گریجویٹس کی بڑی تعداد کو ایک سال کے اندر مستحکم ملازمت نہیں مل پاتی۔ حالیہ برسوں میں گریجویٹ آبادی میں اضافے کے باعث بے روزگاری کا مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے‘‘۔
اس میں بتایا گیا کہ گزشتہ دہائیوں میں نوجوان آبادی اور اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان گریجویٹس کی مجموعی تعداد بھی بڑھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا’’اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کی بلند شرح نے ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے‘۲۰۲۳تک۲۰سے۲۹سال کے درمیان۶کروڑ۳۰لاکھ گریجویٹس میں سے ایک کروڑ۱۰لاکھ بے روزگار تھے‘‘۔
رپورٹ کے مطابق آزادی کے بعد بھارت نے تعلیم کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، اور صنفی و سماجی بنیادوں پر تعلیم تک رسائی میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک زیادہ ہنر مند افرادی قوت سامنے آئی ہے۔
تاہم، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ تعلیم سے روزگار تک منتقلی مؤثر نہیں رہی۔’’نوجوان گریجویٹس کے لیے بے روزگاری کی شرح مسلسل بلند ہے، اور بہت سے افراد کے لیے تعلیم سے ملازمت تک کا سفر غیر یقینی اور غیر مستحکم ہے‘‘۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان مردوں کا تناسب۲۰۱۷کے۳۸فیصد سے کم ہو کر۲۰۲۴کے آخر تک۳۴فیصد رہ گیا، جس کی بڑی وجہ گھریلو آمدنی میں مدد کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا’’تعلیم چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ گھر کی مالی مدد کرنا ہے۔۲۰۱۷میں یہ شرح۵۸ فیصد تھی جو۲۰۲۳تک بڑھ کر۷۲فیصد ہو گئی‘‘۔
۲۰۰۴۔۲۰۰۵ے۲۰۲۳کے درمیان ہر سال تقریباً۵۰لاکھ نئے گریجویٹس شامل ہوئے، لیکن صرف تقریباً۲۸لاکھ کو روزگار ملا، جس سے بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی میں سست روی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق گریجویٹس کی آمدنی غیر گریجویٹس کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے—ملازمت کے آغاز پر ان کی تنخواہ تقریباً دوگنی ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے۔
تاہم مرد گریجویٹس کی آمدنی میں حالیہ برسوں میں اضافہ سست پڑ گیا ہے، جبکہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع میں بہتری کے باعث صنفی فرق میں نمایاں کمی آئی ہے۔










