انتظامیہ کو چوکنا اور متحرک رہنا ہوگا تاکہ مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ کو پنپنے نہ دیا جائے:وزیر اعلیٰ
’ موجودہ بحران کی مدت غیر یقینی ہے‘انتظامیہ کو چوکس رہنا ہوگاہم نہیں جانتے کہ یہ صورتحال کتنی دیر تک رہے گی‘
ڈی آئی پی آر
سرینگر؍۱۶مارچ
وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں ضروری اشیائے خوردونوش اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں آنے والے تہواروں عیدالفطر اور نوراتری کے پیش نظر انتظامات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر بھر میں پٹرولیم مصنوعات، ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیاء کی دستیابی اور سپلائی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ کو چوکنا اور متحرک رہنا ہوگا تاکہ کسی بھی ضلع میں مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ کو پنپنے نہ دیا جائے۔انہوں نے کہا’’میرا خیال ہے کہ مجموعی طور پر انتظامیہ صورتحال سے بخوبی واقف ہے اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ میں صرف یہ دہرانا چاہتا ہوں کہ اگرچہ محکمہ خوراک و رسد اپنا کام کر رہا ہے، لیکن اضلاع میں بھی اس کی مؤثر تکمیل ضروری ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ ضلعی سطح پر سخت نگرانی برقرار رکھیں تاکہ ضروری اشیاء کی ہموار سپلائی اور منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کہیں ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت یا بلیک مارکیٹ کی صورتحال پیدا نہ ہو، ضلعی سطح پر سخت نگرانی ضروری ہے۔ چونکہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اس اجلاس سے منسلک ہیں، اس لیے ان ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ بحران کی مدت غیر یقینی ہے، اس لیے انتظامیہ کو مسلسل چوکس رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا’’ہم نہیں جانتے کہ یہ صورتحال کتنی دیر تک رہے گی۔ یہ چند دن بھی ہو سکتی ہے اور چند ہفتے بھی۔ اس لیے ہمیں یہ فرض کرنا چاہیے کہ یہ ہماری توقع سے زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں مسلسل چوکس رہنا ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت یا بلیک مارکیٹنگ پیدا نہ ہو‘‘۔
عمرعبداللہ نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت دی کہ وہ عوام کو ضروری اشیاء کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال سے باقاعدگی سے آگاہ رکھے تاکہ افواہوں اور گھبراہٹ میں خریداری سے بچا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ یقینی بنایا جائے کہ محکمہ اطلاعات باقاعدگی سے عوام کو صورتحال سے آگاہ کرے تاکہ لوگوں کو یقین دہانی ہوتی رہے کہ ہمارے پاس وافر ذخائر موجود ہیں۔ اس طرح وہ عناصر جو صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، کامیاب نہیں ہو سکیں گے‘‘۔
عمرعبداللہ نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ تجارتی ایل پی جی کی دستیابی پر بھی مسلسل نظر رکھے، خاص طور پر نوراتری، آنے والی عید اور سیاحتی سیزن کے آغاز کے پیش نظر۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی ایل پی جی کی سپلائی میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے ہوٹل مالکان اور ریسٹورنٹ چلانے والوں سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے۔
اس موقع پر وزیر ستیش شرما، جو خوراک و شہری رسد و امورِ صارفین کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں، نے بھی اجلاس میں اپنی رائے پیش کی اور خبردار کیا کہ کچھ عناصر موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اسی طرح چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اضلاع میں بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری جیسے کسی بھی عمل کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ لیگل میٹرولوجی اور خوراک و شہری رسد کے محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں کمشنر سیکریٹری خوراک و شہری رسد و امورِ صارفین سوربھ بھگت نے پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود جموں و کشمیر میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کے ذخائر مستحکم ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ریاست کے مختلف اسٹوریج مراکز اور ڈسٹری بیوشن پوائنٹس پر پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
سپلائی کو برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے کئی ضابطہ جاتی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایل پی جی سلنڈروں کی ترسیل صرف اصل صارفین تک یقینی بنانے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈنظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے صارفین کی تصدیق اور غیر فعال یا جعلی کنکشن کی نشاندہی کے لیے ای-کے وائی سی مہم بھی شروع کی ہے۔
غیر گھریلو ایل پی جی سپلائی کے حوالے سے عارضی طور پر اوسط ماہانہ کھپت کے۲۰فیصد تک حد مقرر کی گئی ہے، تاہم اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے ضروری اداروں کو بلا تعطل سپلائی جاری رکھی جائے گی۔
پریزنٹیشن میں مزید بتایا گیا کہ حکومت ہند نے کھانا پکانے اور روشنی کے مقاصد کے لیے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت۴۶۸کلو لیٹر سپیریئر کیروسین آئل کی عارضی فراہمی بھی منظور کی ہے، جس کا مقصد خاص طور پر انتودیہ انا یوجنا کے تحت آنے والے کمزور طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے۔










