۶۸ہزار نام حذف‘جموں ضلع میں سب سے زیادہ ووٹر
جموں؍۱۶مارچ
جموں و کشمیر میں حالیہ خصوصی سمری نظرثانی(ایس ایس آر )کے دوران انتخابی فہرستوں میں۱ء۶۰لاکھ سے زائد نئے ووٹر شامل کیے گئے جبکہ۶۷ہزار۶۹۰نام حذف اور۲ء۲۹ لاکھ تصحیحات کی گئیں۔ یہ معلومات سرکاری اعداد و شمار میں سامنے آئی ہیں۔
سالانہ ووٹر لسٹ نظرثانی کے دوران جموں ضلع میں سب سے زیادہ نام حذف کیے گئے جن میں زیادہ تر ’ڈپلیکیٹ‘ اور ’منتقل شدہ‘ اندراجات شامل تھے۔ خصوصی سمری نظرثانی بعض ریاستوں میں کی جانے والی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر )سے الگ عمل ہے۔
ضلعی بنیادوں پر ووٹر اندراج کے مطابق جموں ضلع میں سب سے زیادہ ووٹرز ہیں جن کی تعداد۱۱لاکھ۸۹ہزار۵۵۵ ہے، اس کے بعد سری نگر میں۷لاکھ۵۳ہزار۲۲۲؍ اور بارہمولہ میں۷لاکھ۲۰ہزار۵۰۰ ووٹرز ہیں۔
نئے ووٹرز کے اندراج کے حوالے سے سری نگر ضلع سب سے آگے رہا جہاں۳۰ہزار۷۷ووٹرز شامل کیے گئے، اس کے بعد جموں میں۱۶ہزار۸۵۵؍اور بارہمولہ میں۱۱ہزار۸۵۴نئے ووٹرز شامل ہوئے۔
نام حذف ہونے کے معاملے میں جموں ضلع میں۱۰ہزار۴۳۰نام حذف کیے گئے، اس کے بعد بڈگام میں۷ہزار۷۶۲؍اور اننت ناگ میں۵ہزار۲۴۱ اندراجات حذف کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اس نظرثانی کے دوران ایک لاکھ۶۰ہزار۹۷۴ نئے اندراجات،۶۷ہزار۶۹۰حذفیاں اور۲لاکھ۲۹۰زار۹۲۰ تصحیحات درج کی گئیں۔
ان میں۱۰ہزار۶۳۹ڈپلیکیٹ ووٹر اندراجات اور۳۴ہزار۶۷۵ منتقل شدہ اندراجات کی نشاندہی کر کے حذف کیا گیا۔ منتقل شدہ ووٹرز کی سب سے زیادہ تعداد جموں ضلع میں۶ہزار۸۴۰رہی، اس کے بعد راجوری میں۴ہزار۷۹۱؍ اور اننت ناگ میں۳ہزار۷۴۵ کیسز سامنے آئے۔
مجموعی طور پر جموں و کشمیر میں ووٹرز کی کل تعداد۸۷لاکھ۴۲ہزار۸۷۸ تک پہنچ گئی ہے، جن میں۴۴لاکھ۶۵ہزار۱۶۱ مرد ووٹرز‘۴۲لاکھ۷۷ہزار۵۶۸ خواتین ووٹرز اور۱۴۹تیسری جنس کے ووٹرز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کم رجسٹرڈ طبقات میں سو فیصد ووٹر اندراج کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس مقصد کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت خصوصی سمری نظرثانی کے دوران اب سال میں چار تاریخیں ‘یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر ‘ ووٹر اندراج کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ سسٹیمیٹک ووٹرز ایجوکیشن اینڈ الیکٹورل پارٹیسپیشن پروگرام کے تحت وادی اور جموں خطے میں ووٹر بیداری مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ عوام کو انتخابی عمل کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے اور ان کی شرکت کو بڑھایا جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کو ووٹر اندراج اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے خصوصی طور پر ترغیب دی جا رہی ہے۔
چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی سطح پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران مختلف بیداری سرگرمیاں بھی انجام دی گئیں جن میں مقامی زبانوں میں مختصر ویڈیوز اور دستاویزی فلمیں تیار کرنا، انگریزی، ہندی اور اردو میں ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے آگاہی دینا اور ریاست بھر کے اخبارات میں اشتہارات شائع کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ نجی ریڈیو چینلز کے ذریعے آڈیو پیغامات نشر کیے گئے، کیبل ٹی وی نیٹ ورکس پر اسکرول پیغامات دکھائے گئے اور نمایاں مقامات پر ہورڈنگز اور پوسٹرز نصب کیے گئے تاکہ ووٹر اندراج کے عمل کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جا سکے۔
ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرز نے بھی مختلف بیداری اقدامات کیے جن میں بوتھ لیول افسران کی گھر گھر مہم شامل ہے تاکہ اہل ووٹرز کی نشاندہی کر کے انہیں رجسٹریشن میں مدد فراہم کی جا سکے۔
اس کے علاوہ اسکولوں اور کالجوں میں الیکٹورل لٹریسی کلبز کو فعال کیا گیا ہے تاکہ مستقبل کے ووٹرز کو انتخابی عمل سے آگاہ کیا جا سکے، جبکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ’چناؤ پاتھ شالائیں‘ منعقد کی جا رہی ہیں جہاں ووٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں عملی تربیت دی جاتی ہے۔










