نئی دہلی، 14 مارچ (یو این آئی) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خطے کے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے یہاں موجود امریکی فوجی اڈے جلد از جلد بند کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے یہ دعوے کہ وہ ان ممالک کو سلامتی اور امن فراہم کرتا ہے، سراسر جھوٹ ثابت ہوئے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا "میں علاقائی ممالک کے رہنماؤں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ان (امریکی) اڈوں کو جلد از جلد بند کردیں، کیونکہ اب تک انہیں یہ سمجھ آ جانا چاہیے کہ امریکہ کے سلامتی اور امن کے دعوے محض جھوٹ تھے۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ 8 جون 1974 کو ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت سعودی عرب نے اپنے زائد تیل آمدنی کو امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بدلے امریکہ نے سعودی عرب کو فوجی تحفظ، ہتھیار اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی مقصد کے تحت امریکہ نے خطے کے مختلف ممالک میں فوجی اڈے قائم کیے۔
7 مارچ کو مسعود پزشکیان، جو ایران کے صدر ہیں، نے ان ممالک سے ایران کی جانب سے وہاں موجود امریکی تنصیبات پر کیے گئے فضائی اور ڈرون حملوں پر معذرت بھی کی تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد اور گرمجوشی پر مبنی باہمی تعلقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر خطے میں امریکی اڈے بند ہو جائیں تو ان ممالک کی حکومتیں اپنے عوام کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر سکیں گی، کیونکہ عوام عموماً ان اڈوں سے جڑی توہین آمیز صورت حال سے ناخوش ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان ممالک کی دولت اور طاقت میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے واضح کردیا تھا کہ اس نے ان علاقائی ممالک کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا بلکہ صرف ان کے اندر موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو ایران کو اپنا یہ راستہ جاری رکھنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
کسی خاص ملک کا نام لیے بغیر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کی سرحدیں 15 ممالک سے ملتی ہیں اور ایران ہمیشہ ان کے ساتھ گرمجوشی والا تعلقات چاہتا ہے۔ تاہم کئی برسوں سے "دشمن” بعض ممالک میں فوجی اور مالی اڈے قائم کر کے خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران ہر صورت "دشمن” سے ہرجانہ وصول کرے گا۔ اگر وہ ادائیگی سے انکار کریں تو ایران ان کے اثاثوں سے اپنی مرضی کے مطابق رقم حاصل کرے گا اور اگر یہ ممکن نہ ہوا تو اتنی ہی مالیت کے ان کے اثاثے تباہ کر دیے جائیں گے۔
فی الحال امریکہ کے خلیجی خطے میں متعدد فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ تنصیبات فضائی و بحری آپریشنز، لاجسٹکس اور میزائل دفاع کے لیے اہم مراکز سمجھی جاتی ہیں۔
قطر میں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ قائم ہے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا فارورڈ ہیڈکوارٹر بھی ہے اور جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
بحرین میں امریکی بحریہ کے امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، جو خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں سمندری کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔
کویت میں امریکی فوج کی فارورڈ ہیڈکوارٹر سمیت کئی اہم تنصیبات موجود ہیں اور یہاں تقریباً 13,500 امریکی اہلکار تعینات ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں ابو ظہبی کے قریب ایک فضائی اڈہ موجود ہے، جہاں سے جدید لڑاکا طیارے، جاسوسی طیارے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس امریکی فضائی کارروائیوں اور میزائل دفاعی نظام (پیٹریاٹ اور تھاڈ) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
14 مارچ تک ایران نے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر سینکڑوں حملے کیے ہیں۔ ایرانی ڈرون اور میزائل گزشتہ دو ہفتوں میں مغربی ایشیا میں کم از کم 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن میں قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اڈے شامل ہیں۔
اگرچہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی درست تعداد واضح نہیں ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق آٹھ امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 140 زخمی ہوئے ہیں۔









