’ مناسب ہوگا کہ دیگر افراد کے ساتھ بھی اسی طرح کی رعایت برتی جائے جیسا کہ وانگچک کے معاملے میں کیا گیا‘
ایران کے عوام پر مسلط کی گئی’غیر منصفانہ جنگ‘کو ختم ہونا چاہیے اور خطے میں امن قائم ہونا چاہیے:وزیر اعلیٰ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۴مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لداخ کے کارکن سونم وانگچک کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کی منسوخی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہفتہ کے روز مطالبہ کیا کہ وادی میں حالیہ امریکہ اور اسرائیل مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے نوجوانوں کو بھی رہا کیا جائے۔
ہفتہ کو بادام واری میں منعقدہ اسپرنگ فیسٹیول کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’انہیں گرفتار ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کی گرفتاری غلط تھی، اور وہ بھی این ایس اے کے تحت‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لداخ میں صورتحال کو مستحکم رہنا چاہیے اور جس طرح جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جانا ضروری ہے، اسی طرح لداخ کے بارے میں بھی وعدے پورے کیے جانے چاہئیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ وانگچک کے معاملے کی طرح ان افراد کو بھی رہا کیا جانا چاہیے جو معمولی الزامات کا سامنا کر رہے ہیں یا جو اپنی ممکنہ سزا سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اس مقدس مہینے رمضان کی حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جبکہ عیدالفطر میں تقریباً ایک ہفتہ باقی ہے، مناسب ہوگا کہ دیگر افراد کے ساتھ بھی اسی طرح کی رعایت برتی جائے جیسا کہ وانگچک کے معاملے میں کیا گیا‘‘۔
انہوں نے حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار نوجوانوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کئی پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے ہیں اور بعض نے مظاہروں میں فعال طور پر حصہ بھی نہیں لیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’جذبۂ خیر سگالی کے طور پر ان کے خلاف مقدمات واپس لینا اور بعض کو جیل سے رہا کرنا ایک مثبت قدم ہوگا‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں جب ان سے ان کے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حالیہ قاتلانہ حملے کے بعد ان کی سکیورٹی کے جائزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ واقعہ پیش آنے کے بعد جائزہ لینے کا فائدہ کیا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’حملہ ہوا، جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پہلے یہ بتانا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس کے بعد ہی آئندہ اقدامات پر بات ہو سکتی ہے۔ خدا نے انہیں بچا لیا‘‘۔
اسپرنگ فیسٹیول اور جلد کھلنے والے ٹیولپ گارڈن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ اس سے وادی میں سیاحتی موسم گرما کے آغاز کا اشارہ ملتا ہے اور سیاح کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے آئیں گے۔تاہم انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث فضائی کرایوں میں اضافے سے سیاحت متاثر ہو سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم امید کرتے ہیں کہ سیاحت میں اضافہ ہوگا، لیکن فضائی کرایے بڑھ رہے ہیں، نہ صرف بین الاقوامی بلکہ اندرون ملک پروازوں کے بھی۔ انڈیگو نے بھی فیول سرچارج شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس کا سیزن پر کتنا اثر پڑتا ہے، تاہم ہمیں امید ہے کہ حوصلہ افزا آغاز کے باعث سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا‘‘۔
اس سے قبل عمر عبداللہ نے روز کہا کہ ایران کے عوام پر مسلط کی گئی’غیر منصفانہ جنگ‘کو ختم ہونا چاہیے اور خطے میں امن قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کی قیادت کا فیصلہ کریں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ایران کی قیادت کے بارے میں فیصلہ کرنا صرف ایرانی عوام کا حق ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’آخرکار ہم سب امن چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے عوام پر مسلط کی گئی یہ ناانصاف جنگ ختم ہو۔ جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں، امریکہ اور اسرائیل یہ طے نہیں کر سکتے کہ ایران کا رہنما کون ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ سپریم لیڈر کون ہوگا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای صرف ایران کے رہنما ہی نہیں تھے بلکہ ’’وہ پوری مسلم اُمہ کے تسلیم شدہ مذہبی رہنما بھی تھے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’لہٰذا اسے صرف ایران کے ساتھ تنازعہ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بھارتی جہازوں کو ایندھن لے جانے کی اجازت دیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’کوئی بھی ایسا قدم جو ہماری قیمتوں کو کم رکھنے میں مدد دے، وہ ہمارے لیے اچھی بات ہے۔ چاہے اس کا مطلب روس سے تیل خریدنا ہو یا آبنائے کے ذریعے اپنی گیس اور ایندھن کی ترسیل ممکن بنانا ہو، جو بصورت دیگر دوسروں کے لیے بند ہے۔ یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے‘‘۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس اقدام سے بھارت کو فائدہ ہوگا، لیکن’’حقیقی فائدہ تب ہوگا جب امن قائم ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ناانصاف جنگ ختم ہو۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر وہ پیش رفت جو ہندوستان کو ایندھن کی قیمتیں کم رکھنے میں مدد دیتی ہے وہ فائدہ مند ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا فائدہ تبھی ہوگا جب مغربی ایشیا میں امن قائم ہوگا۔
آبنائے ہرمز سے ایران کی جانب سے خام تیل کے دو ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دینے کے سوال پر عمر عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا’’ کوئی بھی چیز جو ہمیں قیمتیں کم رکھنے کی اجازت دیتی ہے، وہ ہمارے لیے اچھی ہے۔ چاہے اس کا مطلب روس سے تیل خریدنا ہو یا اس آبنائے کے ذریعے اپنی گیس اور ایندھن کی سپلائی کو منتقل کرنا ہو جو کہ باقی سب کے لیے بند ہے، یہ ہمارے لیے بہتر ہے۔‘‘
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ نہ صرف ایک قومی رہنما تھے بلکہ ایک ایسی مذہبی شخصیت تھے جن کا پوری مسلم دنیا میں احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’جس شخصیت کو انہوں نے شہید کیا، آیت اللہ خامنہ ای، وہ صرف ایران کے لیڈر نہیں تھے۔ وہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک تسلیم شدہ مذہبی پیشوا تھے۔ اس لیے اسے صرف ایران کے ساتھ تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے بین الاقوامی تنازع کی وجہ سے ہوائی کرایوں میں اضافے کے خدشات کے باوجود، موسم گرما کے آنے والے سیزن میں بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کریں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ توقع ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں آئیں گے، کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں گے اور واپس جائیں گے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عالمی کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سیاحوں کی آمد پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ خدشات موجود ہیں کیونکہ ہوائی جہاز کے ٹکٹ مہنگے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جہاں تک سیاحت کا تعلق ہے، امید تو ہے، لیکن ٹکٹوں کی قیمت صرف بین الاقوامی پروازوں پر نہیں بڑھ رہی، انڈیگو نے یہاں بھی فیول سرچارج لگانا شروع کر دیا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس کا ہمارے سیزن پر کتنا اثر پڑتا ہے۔‘‘ ان چیلنجوں کے باوجود عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو سیاحت کے اچھے سیزن کی امید ہے










