ماہی پروری کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کا عزم:ایل جی سنہا
سری نگر؍۱۴مارچ
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز سری نگر میں محکمہ ماہی پروری، حکومت ہند کے زیر اہتمام سرد پانی کی مچھلی پروری سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس موقع پر مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج راجیو رنجن سنگھ بھی موجود تھے۔
اپنے کلیدی خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۲۰۲۰کے بعد سے جموں و کشمیر میں مچھلی کی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انتظامیہ ماہی پرور کسانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں پائیدار خوشحالی کی طرف لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر مربوط ماہی پروری کی ترقی کے قومی ماڈل کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ویلیو چین کے طریقۂ کار سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کم ہوں گے اور ماہی پروروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی)، جو۲۰۲۲میں شروع کیا گیا، کے تحت ماہی پروری کے شعبے کے لیے۲۳۳کروڑ روپے مختص کیے گئے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، ہیچریز قائم کی جائیں اور ٹراؤٹ فارمنگ سمیت ویلیو ایڈڈ منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔
سنہا نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مچھلی کی پیداوار اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار مالی سال۲۰۲۱۔۲۲میں۱۶۶۳ ٹن سے بڑھ کر۲۰۲۴۔۲۵میں ریکارڈ۲۶۵۰ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی طرح نجی شعبے میں ٹراؤٹ یونٹس کی تعداد۹۳۶سے بڑھ کر۱۶۴۹ہو گئی، ہیچریز ایک سے بڑھ کر۹ہو گئیں، ٹراؤٹ فیڈ ملز صفر سے بڑھ کر۶ہو گئیں، جبکہ آر اے ایس یونٹس۲سے بڑھ کر۹؍اور بایوفلاک یونٹس۱۰سے بڑھ کر۵۹تک پہنچ گئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ضلع اننت ناگ میں قائم کیے جانے والے۱۰۰کروڑ روپے کے انٹیگریٹڈ ایکوا پارک منصوبے کی منظوری پر حکومت ہند کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سرد پانی کی مچھلی پروری کو فروغ دینے، پیداوار بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں جموں و کشمیر بھارت کی سرد پانی والی ریاستوں میں ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار میں سرفہرست بن گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تیز رفتار سماجی و معاشی ترقی کے لیے معاشرے کے ہر طبقے خصوصاً کسانوں کی مسلسل محنت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسان ہماری شناخت اور معیشت کی بنیاد ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے کردار کو مناسب احترام، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ماہی پروری کے شعبے کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی، مقامی مچھلیوں کی سست رفتار افزائش اور مچھلیوں کی صحت سے متعلق خطرات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
سنہا نے زور دیا کہ اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے سرد پانی کی زراعت کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھانا ہوگا، ٹراؤٹ اور کارپ مچھلیوں کی نسلوں کو جینیاتی طور پر بہتر بنانا ہوگا، موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ نظام کو ترجیح دینا ہوگی اور بیماریوں کی تشخیص و آبی صحت کے مؤثر نظام کو فروغ دینا ہوگا۔
اس موقع پر سرد پانی کی مچھلی پروری کی ترقی کے لیے ماڈل رہنما خطوط بھی جاری کیے گئے۔ بہترین فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز)، ترقی پسند ماہی پروروں اور ماہی پروری سے وابستہ اسٹارٹ اپس کو اعزازات سے نوازا گیا۔ کسان کریڈٹ کارڈ اور دیگر اسکیموں کے تحت مستفید ہونے والوں کو منظوری نامے بھی فراہم کیے گئے۔
اس کانفرنس میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے پالیسی سازوں، ماہرین، محققین اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بھارت میں سرد پانی کی مچھلی پروری کی صلاحیت کو پائیدار انداز میں بروئے کار لانے اور اس شعبے کی طویل مدتی ترقی کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔










