تین سے چار ایسے منصوبوں پر بھی تعمیراتی کام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے جو پہلے تعطل کا شکار ہو گئے تھے:مرکزی وزیرِ توانائی
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۴مارچ
مرکزی حکومت نے جموں کشمیر میں نئے پن بجلی منصوبوں کے لیے مقامات کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا ہے اور شمالی ریاستوں تک پانی پہنچانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بات مرکزی وزیرِ توانائی منوہر لال کھٹر نے ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
وزیر نے بتایا کہ خطے میں بعض پن بجلی گھر پہلے ہی کام کر رہے ہیں، جبکہ ذخائر کی گنجائش بحال کرنے کے لیے ڈیسلٹنگ (گاد صاف کرنے) کا کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ تین سے چار ایسے منصوبوں پر بھی تعمیراتی کام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے جو پہلے تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
کھٹر نے کہا’’کچھ بجلی گھر پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور ذخائر کی صلاحیت بحال کرنے کے لیے گاد نکالنے کا کام جاری ہے۔ تین چار ایسے منصوبوں پر بھی کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے جو رکے ہوئے تھے۔ مزید منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور ان کے لیے مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری ہے‘‘۔
حکام اب خطے میں مزید پن بجلی گھروں کے لیے ممکنہ مقامات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
سابق وزیر اعلیٰ ہریانہ نے کہا کہ حکومت اس امکان کا بھی مطالعہ کر رہی ہے کہ اس خطے سے پانی کو نہروں یا سرنگوں کے ذریعے پنجاب اور وہاں سے آگے راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش اور دہلی تک منتقل کیا جائے۔
مرکزی وزیر نے کہا’’پنجاب اور وہاں سے راجستھان، ہریانہ، یوپی اور دہلی تک پانی منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ اس کے لیے دو تین ممکنہ راستے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون سا راستہ جلد تعمیر کیا جا سکتا ہے اور مالی طور پر قابلِ عمل ہوگا۔ جموں شہر کے اندر سے گزرنے والا ایک مجوزہ راستہ شاید قابلِ عمل نہ ہو۔ شہر کے اردگرد سے گزرنے والے ایک اور راستے کی عملی حیثیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘‘۔
کھٹر کے مطابق دو یا تین ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جموں شہر کے اندر سے گزرنے والا ایک راستہ عملی طور پر مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ شہر کو بائی پاس کرنے والے دوسرے راستے کی لاگت اور عملی امکانات کا جائزہ جاری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے اور اس میں قابلِ تجدید توانائی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ماضی میں جہاں تھرمل پاور منصوبے زیادہ ہوتے تھے، اب شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست ذرائع پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
چونکہ شمسی توانائی چوبیس گھنٹے دستیاب نہیں ہوتی، اس لیے حکومت توانائی کے ذخیرے کے نظام پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ بجلی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
جوہری توانائی بھی مستقبل میں توانائی کے نظام کا اہم حصہ بننے کی توقع ہے۔ بھارت میں اس وقت تقریباً ۸یگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت موجود ہے جبکہ مزید ۱۲گیگاواٹ کی ترقی پر کام جاری ہے۔
طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ۲۰۴۷تک جوہری توانائی کی مجموعی صلاحیت تقریباً۱۰۰ گیگاواٹ تک پہنچائی جائے، اور ریاستوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ کم از کم ایک جوہری منصوبے کی میزبانی کریں۔
وزیر کے مطابق بجلی کی مسلسل فراہمی اور گرڈ کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تھرمل پاور کا کردار بھی برقرار رہے گا۔
فی الحال تقریباً۲۰ہزار میگاواٹ تھرمل بجلی کی صلاحیت مختلف مراحل میں زیر تعمیر ہے اور۲۰۳۲تک مزید منصوبوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے بعد ممکن ہے کہ کوئلے پر مبنی نئے منصوبوں کی ضرورت کم ہو جائے کیونکہ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بھارت۲۰۲۷تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کی جانب بڑھے گا۔
مرکزی وزیر نے گزشتہ دہائی کے دوران بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں بہتری کا بھی ذکر کیا۔۲۰۱۴۔۱۵میں طلب اور رسد کے درمیان فرق تقریباً۵ء۵فیصد تھا، جو۲۰۲۴۔۲۵میں کم ہو کر تقریباً۰ء۱فیصد رہ گیا ہے، جس کی بڑی وجہ تکنیکی بہتری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔
بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی مالی حالت کے بارے میں وزیر نے کہا کہ حال ہی میں ڈسکامز نے تقریباً۲۷۰۰کروڑ روپے کا منافع رپورٹ کیا ہے، تاہم اس شعبے پر اب بھی تقریباً۶ء۷لاکھ کروڑ روپے کے جمع شدہ نقصانات کا بوجھ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ نقصانات اس وجہ سے بڑھے کیونکہ اکثر بجلی کے نرخ سپلائی کی اصل لاگت سے کم رکھے جاتے تھے، خاص طور پر اس وقت جب حکومتیں رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرتی تھیں۔










