حکومت کی لوک سبھا میں یقین دہانی ‘اپوزیشن سے اپیل کی کہ افواہیں اور جھوٹے بیانیے نہ پھیلائے جائیں
’ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی کا معمول کا دورانیہ بھی تبدیل نہیں ہوا‘ ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مناسب ذخیرہ موجود ہے‘
سرینگر؍۱۲مارچ
حکومت نے جمعرات کو کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باوجود ملک میں پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل یا ایوی ایشن ٹربائن فیول کی کسی قسم کی کمی نہیں ہے اور اپوزیشن سے اپیل کی کہ افواہیں اور جھوٹے بیانیے نہ پھیلائے جائیں۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے جواب میں پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ملک کے۳۳کروڑ سے زائد خاندانوں، خاص طور پر غریب اور محروم طبقات کے گھروں میں گیس کی کسی قسم کی کمی نہ ہو۔
پوری نے کہا کہ گھریلو سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے اور ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی کا معمول کا دورانیہ بھی تبدیل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا’’ملک میں پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل، ایوی ایشن ٹربائن فیول یا فیول آئل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان تمام ایندھن کی دستیابی پوری طرح یقینی ہے‘‘۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ملک بھر میں ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مناسب ذخیرہ موجود ہے، سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور تمام ریاستوں کو پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے تحت مٹی کے تیل کی اضافی مقدار بھی فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا’’یہ افواہیں پھیلانے یا جھوٹے بیانیے گھڑنے کا وقت نہیں ہے۔ بھارت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے عالمی توانائی بحران سے گزر رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ خام تیل کی سپلائی جاری ہے اور گیس کو گھروں اور کھیتوں کے لیے ترجیح دی جا رہی ہے۔
پیٹرولیم کے وزیر نے بتایا کہ گھریلو اور زرعی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے ایل پی جی کی پیداوار میں۲۸فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’صارفین کے لیے قیمتیں اس سطح سے کہیں کم رکھی گئی ہیں جو عالمی منڈیوں یا علاقائی قیمتوں کے مطابق ہو سکتی تھیں۔ اسکول کھلے ہوئے ہیں، پٹرول پمپوں پر ایندھن دستیاب ہے۔ ہر شہری، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اس صورتحال سے جڑا ہوا ہے‘‘۔
پوری نے کہا کہ بھارت کو اپنی توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد، اس بحران سے نمٹنے والے اداروں اور قومی مفاد کے ساتھ متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔
اپوزیشن ارکان کی جانب سے نعرے بازی کے دوران وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مؤثر سفارتی کوششوں کی بدولت بھارت نے اتنی مقدار میں خام تیل حاصل کر لیا ہے جو اسی مدت میں آبنائے ہرمز کے راستے آنے والی سپلائی سے بھی زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس بحران سے پہلے بھارت کی تقریباً۴۵فیصد خام تیل درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے آتی تھیں۔
مرکزی وزیر نے کہا’’اب غیر ہرمز ذرائع سے خام تیل کی فراہمی تقریباً۷۰فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو اس تنازع سے پہلے۵۵فیصد تھی‘‘۔انہوں نے بتایا کہ بھارت اس وقت۴۰ممالک سے خام تیل حاصل کر رہا ہے، جبکہ۲۰۰۶۔۲۰۰۷میں یہ تعداد۲۷تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور بعض معاملات میں۱۰۰فیصد سے بھی زیادہ صلاحیت پر چل رہی ہیں۔
پوری نے کہا’’توانائی کی جدید تاریخ میں دنیا نے اس طرح کا وقت پہلے کبھی نہیں دیکھا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ۲۸فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کے جہازوں کی آمد و رفت روک دی ہے، جس راستے سے دنیا کے تقریباً۲۰فیصد خام تیل، قدرتی گیس اور ایل پی جی کی ترسیل ہوتی ہے۔
پیٹرولیم کے وزیر نے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان فوجی کارروائی کے باعث سپلائی متاثر ہوئی، اور اگرچہ بھارت کا اس تنازع میں کوئی کردار نہیں ہے، تاہم دیگر ممالک کی طرح اسے بھی اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیر نے کہا کہ ایک ہمسایہ ملک نے تمام اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کر دیے ہیں، سرکاری دفاتر کو چار روزہ ہفتہ کر دیا ہے،۵۰فیصد سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا حکم دیا ہے، سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کا کوٹہ آدھا کر دیا ہے اور۶۰فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی ہیں۔
پوری نے کہا کہ ایک اور ہمسایہ ملک نے ایندھن بچانے کے لیے یونیورسٹیاں جلد بند کر دی ہیں اور عید الفطر کی تعطیلات بھی پہلے کر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کو بھی توانائی کی راشن بندی اور بچت کے اقدامات کرنا پڑے ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ اس سے قبل بھارت اپنی ایل پی جی ضروریات کا تقریباً۶۰فیصد خلیجی ممالک جیسے قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت سے درآمد کرتا تھا جبکہ۴۰فیصد ملک میں پیدا کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب ایل پی جی کی خریداری کے ذرائع کو متنوع بنا دیا گیا ہے اور امریکہ، ناروے، کینیڈا، الجزائر اور روس سے بھی کارگو حاصل کیے جا رہے ہیں۔
پوری نے بتایا کہ۸مارچ کو جاری کیے گئے ایل پی جی کنٹرول آرڈر کے تحت تمام ریفائنریز کو ایل پی جی کی پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا’’اسی وجہ سے گزشتہ پانچ دنوں میں ریفائنری ہدایات کے تحت ایل پی جی کی پیداوار میں۲۸ فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور مزید خریداری بھی جاری ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ سے ترسیل تک کا اوسط وقت اب بھی۲ء۵دن ہے، جو بحران سے پہلے کے معمول کے مطابق ہی ہے










