ایجنسیز
سرینگر؍۱۲ مارچ
سرینگر کی ایک عدالت نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے خلاف جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) اسکینڈل معاملے میں ان کی استثنا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ناقابلِ ضمانت وارنٹ (این بی ڈبلیو) جاری کر دیا۔
یہ حکم جمعرات کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں فردِ جرم عائد کرنے کے مرحلے پر کارروائی ہو رہی تھی۔
جے کے سی اے اسکینڈل کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کر رہا ہے۔
آج کی سماعت کے دوران عدالت نے عبداللہ کی جانب سے دائر کی گئی استثنا کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ان کے وکیل نے بتایا کہ ملزم نہ تو جسمانی طور پر عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ورچوئل طریقے سے۔
اس کے بعد عدالت نے اپنے دفتر کو ہدایت دی کہ ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا جائے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا’’درخواست کے مندرجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم (عبداللہ) کے وکیل کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ملزم کی ورچوئل موڈ کے ذریعے حاضری یقینی بنائیں، تاہم وکیل نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی اور کہا کہ ملزم نہ تو جسمانی طور پر اور نہ ہی ورچوئل موڈ کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔ استثنا کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ دفتر کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ملزم نمبر۵کے خلاف این بی ڈبلیو جاری کیا جائے‘‘۔
عدالت نے ایک اور ملزم منظور غضنفر علی کی استثنا کی درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا۔ مقدمے کے دیگر ملزمان کارروائی کے دوران عدالت میں موجود تھے۔
اس معاملے کو ملزمان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے۳۰مارچ کو درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر اگلی سماعت پر کوئی بھی ملزم حاضر نہیں ہوتا تو مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے۔
عدالت نے دیگر ملزمان کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ ایک بینک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر اعتراضات داخل کریں، جبکہ عدالت نے نوٹ کیا کہ سی بی آئی پہلے ہی اپنے اعتراضات جمع کرا چکی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزم نمبر چار بشیر احمد مسگر، جو ایک بینکار ہیں، کو اعتراضات داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ دو ملزمان کو پہلے ہی معافی دی جا چکی ہے۔
۲۰۱۸میں سی بی آئی نے عبداللہ اور پانچ دیگر افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے جے کے سی اے کو دیے گئے گرانٹس میں سے۴۳کروڑ روپے کا غبن کیا۔
سی بی آئی کے مطابق یہ فنڈز۲۰۰۲سے۲۰۱۱ کے درمیان خرد برد کیے گئے، جب فاروق عبداللہ جے کے سی اے کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ ملزمان، بشمول عبداللہ، کے خلاف بادی النظر میں شواہد موجود ہیں اور مشاہدہ کیا تھا کہ’’رانبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کی دفعات۱۲۰بی‘۴۰۶؍اور۴۰۹کے تحت جرائم کے بنیادی عناصر موجود ہیں‘‘ اور اسی کے مطابق ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی










