ہفتہ, جون 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

 کشمیر میں اینٹی بایوٹک کا بڑھتا ہوا غلط استعمال

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-12
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

دنیا بھر میں صحت عامہ کو درپیش بڑے خطرات میں ایک خطرہ اینٹی بایوٹکس کے بے جا استعمال سے پیدا ہونے والی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس(اے ایم آر)ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش بحران ہے جو آہستہ آہستہ انسانی صحت کے بنیادی نظام کو کمزور کر رہا ہے۔ ہندوستان بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں، بلکہ بعض ماہرین کے مطابق اینٹی بایوٹکس کے بے احتیاط استعمال نے ملک کو اس بحران کے اہم مراکز میں شامل کر دیا ہے۔ کشمیر میں اس مسئلے کی نوعیت مزید تشویشناک اس لیے بن جاتی ہے کیونکہ یہاں اینٹی بایوٹکس کی اوور دی کاؤنٹر فروخت ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔

عام طور پر لوگوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اینٹی بایوٹک ادویات محض انفیکشن کو ختم کرنے والی عام دوائیں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا غیر ضروری استعمال مستقبل میں بیماریوں کو ناقابل علاج بنا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق کے مطابق۲۰۱۹میں بھارت میں تقریباً۲لاکھ۹۷ہزار اموات براہ راست اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے باعث ہوئیں، جبکہ تقریباً۱۰لاکھ۴۰ ہزار اموات ایسی تھیں جن میں دوا کے خلاف مزاحمت نے بیماری کو سنگین بنانے میں کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ہر سال تقریباً۵۸ہزار نومولود بچے ایسے بیکٹیریا سے ہونے والے سیپسس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو عام اینٹی بایوٹکس سے متاثر نہیں ہوتے۔

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

یہ اعداد و شمار محض طبی اعداد نہیں بلکہ ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر اینٹی بایوٹکس کے استعمال کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو وہ دور بھی زیادہ دور نہیں جب معمولی انفیکشن بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

کشمیر میں اس مسئلے کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے مقامی صورتحال پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ وادی میں اکثر فارمیسیوں پر اینٹی بایوٹکس بغیر نسخے کے آسانی سے دستیاب ہیں۔ سردی، کھانسی، گلے کے درد یا معمولی بخار جیسی شکایات کے لیے بھی لوگ براہ راست دوا کی دکانوں سے اینٹی بایوٹکس خرید لیتے ہیں۔ کئی بار فارماسسٹ خود ہی ایک یا دو کیپسول دے دیتے ہیں، گویا یہ کوئی عام درد کش دوا ہو۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ طرز عمل نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اینٹی بایوٹکس صرف بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہوتی ہیں، جبکہ اکثر عام بیماریاں جیسے نزلہ یا فلو وائرس کے باعث ہوتی ہیں جن پر اینٹی بایوٹکس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد انہیں فوری آرام کے لیے استعمال کرتی ہے۔

مسئلہ صرف غلط دوا لینے تک محدود نہیں بلکہ ادویات کا نامکمل کورس بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اکثر مریض چند دن دوا لینے کے بعد جب خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں تو دوا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس عمل سے کمزور بیکٹیریا تو ختم ہو جاتے ہیں مگر مضبوط بیکٹیریا زندہ رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی مزاحمت آگے چل کر اینٹی بایوٹکس کو بے اثر بنا دیتی ہے۔

کشمیر میں ہونے والی ایک تحقیق نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کیا ہے۔۲۰۲۳کے دوران گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں زخموں کے انفیکشن پر ہونے والی ایک تحقیق میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ بیکٹیریا کی بڑی تعداد سامنے آئی، جن میں میتهی سیلین ریزسٹنٹ اسٹافائلوکوکس اوریئس(ایم آر ایس اے) بھی شامل تھا۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے اینٹی بایوٹکس کا غیر ضروری استعمال ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے۔

یہ صورتحال صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور انتظامی چیلنج بھی ہے۔ بھارت کی حکومت اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے اینٹی بایوٹکس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں شیڈول H1 کے تحت بعض طاقتور اینٹی بایوٹکس کی فروخت کو سخت ضابطوں کے تحت لانا، ’سرخ لکیر‘مہم کے ذریعے عوام کو آگاہ کرنا اور غیر منطقی فکسڈ ڈوز کمبینیشن ادویات پر پابندی شامل ہیں۔

سرخ لکیر مہم کا مقصد یہ واضح پیغام دینا ہے کہ جن ادویات کے پیکٹ پر سرخ لکیر موجود ہو وہ صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے پروگرام ’من کی بات‘ میں اینٹی بایوٹکس کے غلط استعمال کے مسئلے پر تشویش ظاہر کی تھی اور عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ایسی ادویات استعمال نہ کریں۔

تاہم کشمیر میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد کمزور نظر آتا ہے۔ دوا فروشوں کی بڑی تعداد سرخ لکیر والی ادویات بھی بغیر نسخے کے فروخت کر دیتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض علاقوں میں صحت کی سہولیات تک فوری رسائی محدود ہے، جس کے باعث لوگ براہ راست فارمیسی سے دوا لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

لیکن یہ سہولت وقتی طور پر آسان ضرور محسوس ہوتی ہے مگر طویل مدت میں صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جب بیکٹیریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں تو عام علاج مؤثر نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں مریضوں کو مہنگی اور پیچیدہ ادویات کا سہارا لینا پڑتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں علاج ممکن ہی نہیں رہتا۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کشمیر میں چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے فارمیسیوں پر ضابطوں کا سخت نفاذ ضروری ہے تاکہ سرخ لکیر والی ادویات بغیر نسخے کے فروخت نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوا فروشوں کی تربیت بھی اہم ہے تاکہ وہ مریضوں کو غیر ضروری ادویات دینے سے گریز کریں۔

دوسرا اہم پہلو عوامی آگاہی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اینٹی بایوٹکس ہر بیماری کا علاج نہیں ہوتیں۔ میڈیا، اسکولوں اور صحت کے اداروں کے ذریعے اس بارے میں مسلسل مہم چلائی جا سکتی ہے۔ اگر عوام کو اینٹی بایوٹکس کے غلط استعمال کے نقصانات کا شعور ہو جائے تو وہ خود بھی احتیاط برتیں گے۔

تیسرا پہلو صحت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اگر بنیادی صحت مراکز فعال ہوں اور لوگوں کو ڈاکٹر تک آسان رسائی حاصل ہو تو وہ خود سے دوا لینے کے بجائے طبی مشورہ لینا زیادہ بہتر سمجھیں گے۔

کشمیر میں صحت عامہ کے کئی چیلنج پہلے ہی موجود ہیں۔ ایسے میں اینٹی بایوٹکس کے غلط استعمال کو نظر انداز کرنا مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ اگر آج اس پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں عام انفیکشن بھی پیچیدہ اور مہلک بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

اینٹی بایوٹکس جدید طب کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہیں، مگر ان کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب انہیں ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ کشمیر میں سرخ لکیر والی ادویات کے بارے میں شعور اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

یہ وقت ہے کہ معاشرہ، صحت کے ادارے اور انتظامیہ مل کر اس خاموش بحران کا مقابلہ کریں۔ کیونکہ اگر اینٹی بایوٹکس اپنی تاثیر کھو بیٹھیں تو جدید طب کی کئی کامیابیاں محض تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

کشمیر میں طویل خشک سالی کا خاتمہ

Next Post

 یہ گستاخ سڑکیں

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

 یہ گستاخ سڑکیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.