ایجنسیز
سرینگر؍۱۰مارچ
ایران کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ہندوستانی میڈیکل طلبہ، جن میں جموں و کشمیر کے درجنوں نوجوان بھی شامل ہیں، وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور رہائشی علاقوں کے قریب دھماکوں کے بعد شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کے حوالے سے مسلسل خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
ایران کی سرزمین پر کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ طلبہ کے مطابق انہوں نے تہران میں بھارتی سفارت خانے سے رابطے کیے ہیں اور فوری طور پر وطن واپسی کی اپیل کی ہے۔ ایران کی مختلف جامعات جیسے اُرمیا میڈیکل یونیورسٹی، شاہد بہشتی یونیورسٹی، تہران میڈیکل یونیورسٹی، ایران میڈیکل یونیورسٹی، کرمان یونیورسٹی، شیراز یونیورسٹی اور اصفہان میڈیکل یونیورسٹی—کے طلبہ نے بتایا کہ ہر طرف بے یقینی اور بے چینی کی فضا قائم ہے۔
اُرمیا میں موجود طلبہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے کوائف سفارت خانے میں جمع کر دیے ہیں، مگر انہیں بتایا گیا کہ ملک سے نکلنے کا ممکنہ راستہ آرمینیا کے ذریعے ہے، جس کے بعد اپنے خرچے پر وطن واپسی کرنا ہوگی۔ طلبہ کے مطابق وہ متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اتنے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
قم میں حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ وہاں طلبہ کو ایک سرائے میں رکھا گیا ہے، لیکن اس علاقے میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ ایک طالب علم کے مطابق آٹھ مارچ کی رات وقفے وقفے سے زوردار دھماکے ہوئے، جس سے سرائے کے کمروں کے شیشے تک لرز اٹھے۔ طلبہ پوری رات خوف میں جاگتے رہے اور ہر دھماکے کی آواز پر محفوظ گوشوں کی طرف بھاگتے رہے۔
کرمان، شیراز اور اصفہان میں بھی طلبہ سخت خوف میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ انہیں کہا گیا ہے کہ یہ علاقے بظاہر محفوظ ہیں، مگر آس پاس ہونے والے حملوں کی اطلاعات نے خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔
جموں و کشمیر کے والدین بھی شدید پریشان ہیں۔ پلوامہ، بڈگام اور شوپیاں سے تعلق رکھنے والے والدین نے کہا ہے کہ ان کے بچے روتے ہوئے فون کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہیں۔ والدین کے مطابق وہ رات بھر جاگ کر بچوں کی خیریت کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
آل انڈیا میڈیکل طلبہ تنظیم کے نمائندہ ڈاکٹر محمد مومن خان نے بتایا ہے کہ انہیں روزانہ سینکڑوں کالیں موصول ہو رہی ہیں اور طلبہ اپنے انخلا کے لیے گڑگڑا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے اور حکومت کو فوری قدم اٹھانا چاہیے۔
ایران میں حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں اور اسی وجہ سے طلبہ اور والدین دونوں حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ جلد از جلد انہیں اس خطرناک ماحول سے نکال کر وطن واپس لایا جائ










