نئی دہلی، 9 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ہندوستان کی توانائی کی سلامتی پر بڑھتے ہوئے اثرات پر بحث کے لیے لوک سبھا میں تحریک التواء کا نوٹس دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایوان کی کارروائی ملتوی کی جائے اور اس اہم معاملے پر فوری بحث کی جائے۔
اپنے نوٹس میں وینوگوپال نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی ہندوستان کی معیشت، اسٹریٹجک مفادات اور بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے سنگین چیلنجز کھڑی کر رہی ہے۔ ہندستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد اس خطے سے درآمد کرتا ہے، اس لیے خطے میں عدم استحکام توانائی کی فراہمی اور اقتصادی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات اور کشیدگی نے وہاں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ مزید برآں، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی اور روزمرہ کی ضروریات کی لاگت کو متاثر کر سکتا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کی توانائی کی سلامتی، سمندری راستوں کے استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر ایک جامع بحث ضروری ہے۔
ادھرمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رکن پارلیمنٹ سندوش کمار پی نے راجیہ سبھا میں رول 267 کے تحت خلیجی خطہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کے معاملے پر بحث کرانے کا نوٹس دیا ہے۔
انہوں نے پیر کو ایوان میں معمول کی کارروائی معطل کرکے اس سنگین مسئلہ پر فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے نوٹس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے سبب خلیجی خطے میں سلامتی اور انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ اس سے وہاں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کی حفاظت، ذریعہ معاش اور نقل و حرکت کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایم پی نے کہا کہ ہندوستانی کارکنان، پیشہ ور افراد اور ان کے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک میں مقیم ہے، جو ہندوستان کی معیشت اور میزبان ممالک دونوں میں نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، ہندوستانی حکومت کو مسلسل صورت حال پر نظر رکھنی چاہئے اور ہندوستانی کمیونٹی کے لئے موثر امداد اور سیکورٹی کو یقینی بنانا چاہئے۔
انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر واضح بیان دیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو ہندوستانی شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ انخلاء کے لیے تیاری کی جائے۔










