خلیجی ممالک میں ایک کروڑ بھارتی‘۶۷ہزار افراد کو واپس لایا گیا؛ ایندھن کی سلامتی اور تجارت پر بھی نظر
ایجنسیز
نئی دہلی؍۹مارچ
حکومت ہند نے مغربی ایشیا میں جاری جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے ایک بار پھر تمام فریقوں سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔
پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ‘ ایس جے شنکر نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کا آغاز۲۸فروری۲۰۲۶کو ہوا، جس میں اسرائیل اور امریکہ ایک طرف جبکہ ایران دوسری طرف شامل ہیں۔ اس دوران خلیجی ممالک کے بعض علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
جے شنکرکے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر یکم مارچ کو وزیر اعظم کی سربراہی میں کابینہ کی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال، بھارتی شہریوں کے تحفظ اور معاشی و تجارتی سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ بھارتی شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے باعث خطے میں حالات مزید بگڑ گئے ہیں اور کئی ممالک اس کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں معمولات زندگی اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ پارلیمنٹ میں حکومت نے اس تنازعے میں ہلاک ہونے والوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جلد از جلد جنگ کے خاتمے کی اپیل کی۔
ان کے مطابق مغربی ایشیا بھارت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری خلیجی ممالک میں مقیم ہیں جبکہ ایران میں بھی ہزاروں بھارتی طلبہ اور کارکن موجود ہیں۔ اس کے علاوہ خطہ بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی علاقے سے درآمد کی جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک بھارت کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں اور ان کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً۲۰۰؍ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دہائی میں اس خطے سے بھارت میں نمایاں سرمایہ کاری بھی ہوئی ہے۔ تاہم موجودہ جنگ کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
جے شنکر نے یہ بھی بتایا کہ بعض حملوں میں دو بھارتی ملاح ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک اب بھی لاپتہ ہے، جس پر پارلیمنٹ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق حکومت نے جنوری۲۰۲۶سے ہی ایران میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر بھارتی شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بعد ازاں انہیں ایران چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا گیا اور سفارت خانے نے۲۴گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کیں۔
جنگ شروع ہونے کے بعد تہران میں موجود بھارتی طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ بعض تاجروں کو آرمینیا کے راستے وطن واپس آنے میں مدد فراہم کی گئی۔ اسی طرح خلیجی ممالک میں پھنسے مسافروں کی واپسی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
جے شنکرکے مطابق اب تک تقریباً۶۷ ہزار بھارتی شہری مختلف پروازوں کے ذریعے وطن واپس آ چکے ہیں۔ صرف گزشتہ تین دنوں میں بھارتی ایئرلائنز کی درجنوں پروازیں مختلف خلیجی ممالک سے بھارت کے لیے چلائی گئی ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان، اردن اور اسرائیل کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کر کے بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے یقین دہانی حاصل کی ہے۔ وزیر خارجہ بھی خطے کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ایران کی ایک بحری جہاز کو انسانی بنیادوں پر کوچین بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے عملے کو بھارتی بحریہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس پر ایران نے بھارت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
توانائی سلامتی کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ وہ عالمی منڈی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر توانائی کمپنیوں کی مدد کے لیے سفارتی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بھارتی صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ بھارت کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، جبکہ بھارتی شہریوں کی حفاظت اور قومی مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری رہے گی










