این سی ممبران پارلیمان بھی اظہار تعزیت کیلئے ایرانی سفارتخانے گئے
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۹مارچ
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز دہلی میں ایرانی ثقافتی مرکز اور ایران کے سفارت خانے کے دورے کے دوران ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کا مسئلہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران انہوں نے اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کے ساتھ تعزیت پیش کی اور ایرن کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اس دوران بڈگام نشست کے رکن اسمبلی آغا سید منتظر مہدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’دلی میں ایرانی ثقافتی مرکز اور سفارت خانے کا دورہ کیا اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے پوسٹ میں مزید کہا’’ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کا مسئلہ بھی معزز سفیر کے ساتھ اٹھایا‘‘۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے اس سے قبل بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت امور خارجہ سے ایران میں پھنسے جموں وکشمیر کے طلبا کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لئے مداخلت کرنے کی اپیل کی تھی۔
بعض رپورٹس کے مطابق ایران میں۱۱سو سے۱۵سو طلباء جن میں اکثریت کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبا کی ہے، اس وقت موجود ہیں جن کی حفاظت پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
مختلف ایرانی جامعات میں زیر تعلیم طلبہ نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ انہیں پڑوسی ممالک آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے محفوظ طریقے سے ہندستان واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اس دوران موں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کا دورہ کر کے ایران کے روحانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔
وفد میں ارکانِ پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان، سجاد احمد کچلو اور گوروِندر سنگھ اوبرائے شامل تھے۔ انہوں نے بھارت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی سے ملاقات کی۔
اس موقع پر ارکانِ پارلیمنٹ نے سفارت خانے میں رکھی گئی تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کئے اور معزز رہنما کے المناک قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
وفد نے جموں و کشمیر کے عوام، جے کے این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے ایک خودمختار ملک پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ حملے کو ’’بربریت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
جے کے این سی رہنماؤں نے مرحوم رہنما کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور جموں و کشمیر سمیت پورے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی امید ظاہر کی۔










