انقرہ، 28 فروری (یو این آئی) افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے جمہوریہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں باہمی دل چسپی کے علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گفتگو کا خصوصی محور افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ صورت حال اور اس کے ممکنہ علاقائی اثرات رہے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مولوی امیر خان متقی نے حالیہ پیش رفت کے تناظر میں امارتِ اسلامی افغانستان کا اصولی اور دوٹوک مؤقف واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سکیورٹی اور دفاعی فورسز کی حالیہ کارروائیاں مکمل طور پر ملکی خودمختاری، قومی فضائی حدود کے تحفظ اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے تناظر میں کی گئیں۔
انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ ان کارروائیوں کے لیے مقرر کردہ اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیے گئے ہیں۔
مولوی متقی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امارتِ اسلامی نے اپنے قیام کے آغاز سے ہی تشدد یا محاذ آرائی کی پالیسی اختیار نہیں کی… بلکہ ہمیشہ باہمی احترام، تعمیری مکالمے اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی اسی صورت ممکن ہے، جب فریقِ ثانی بھی عملی اقدامات اور مخلصانہ ارادے کے ذریعے مسائل کے حل کی سنجیدہ خواہش کا مظاہرہ کرے۔
دوسری جانب ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے افغانستان کے پُرامن اور ذمہ دارانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ متعلقہ اور ہم خیال ممالک کے ساتھ رابطے اور مشاورت میں ہے، تاکہ مشترکہ اور مربوط سفارتی کوششوں کے ذریعے صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکے۔










