ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۷فروری//
پاکستان اور افغاستان کے درمیان تازہ ترین کشیدہ صورتحال اور جھڑپوں پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اظہارِ خیال کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سختی سے پابندی کریں۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے سرحدی جھڑپوں اور مہلک فضائی حملوں کے بعد افغانستان اور پاکستان سے مسائل کے حل کے لیے باہمی بات چیت کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے بعد پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان رجیم کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے دارالحکومت کابل کے کچھ مقامات، پکتیکا اور قندھار میں بمباری کی گئی ہے۔ تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات کو شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان طالبان نے اسے چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری کا جواب قرار دیا تھا۔
طالبان کے سرکاری عہدیداروں نے جمعرات کی شام کے حملوں کو پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں اس ہفتے کے شروع میں پاکستانی فضائی حملوں کا ’بدلہ‘ قرار دیا، جن میں طالبان حکام کے مطابق کم از کم 18 افراد مارے گئے تھے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان کی متعدد پوسٹس اپنے قبضے میں لے لی ہیں اور ان کی کارروائیوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔








