حضرت بل اور جامع مسجد میں ہزاروں فرزندانِ توحید کی حاضری
ایجنسیز
سرینگر؍۲۷فروری
وادی کشمیر میں رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ کے موقع پر آج پورے خطے میں ایک روح پرور اور پُرسکون مذہبی ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں لاکھوں لوگوں نے خشوع و خضوع کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی۔
سب سے بڑے اجتماعات روایتی طور پر درگاہ حضرت بل سری نگر اور مرکزی جامع مسجد نوہٹہ میں منعقد ہوئے، جہاں دور دراز علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد صبح سویرے ہی پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔
رمضان کے تقدس سے معمور اس جمعے کی اہمیت کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر کے بیشتر مقامات پر ٹریفک کنٹرول، سیکورٹی، صفائی اور بنیادی سہولیات کے لیے خصوصی بندوبست کیے تھے۔ دونوں بڑے مقامات پر مرد و خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے، جب کہ شہریوں کے لیے خصوصی مددگار رضاکار بھی تعینات رہے۔
درگاہ حضرت بل میں آج صبح سے ہی زائرین کا جم غفیر دیکھنے کو ملا۔ ایوانِ خطابت سے علمائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں رمضان المبارک کی فضیلت، صبر، تقویٰ، ایثار اور خیرات کی اہمیت پر تفصیلی خطابات کیے۔
امامِ درگاہ نے اپنے خطبے میں کہا:’رمضان کا مہینہ ہمیں اپنے دلوں کو نرم کرنے، دوسروں کا احساس کرنے اور اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا سنہری موقع دیتا ہے۔ کشمیر کے لوگ ہمیشہ سے دین و روحانیت سے جڑے رہے ہیں، ہمیں اسی ورثے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔‘
مرکزی جامع مسجد سری نگر میں بھی ہزاروں لوگوں نے جمعہ کی نماز میں شرکت کی۔ مسجد کے احاطے اور آنگن تک نمازیوں کی صفیں بچھ گئیں۔ خطیب نے اپنے خطاب میں کہا:’رمضان ہمیں صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا سبق نہیں دیتا بلکہ یہ ماہ ہمیں اپنے کردار، اخلاق، معاملات اور سماجی رویوں کو بہتر بنانے کی تربیت دیتا ہے۔ آج کے حالات ہمیں پہلے سے زیادہ اتحاد، اخوت اور تحمل کی دعوت دیتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی روحانی تاریخ نے صدیوں تک اس خطے کو محبت، امن اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیا ہے اور مساجد کے یہ بڑے اجتماعات اسی روایت کا روشن ثبوت ہیں۔
نمازِ جمعہ کے بعد نمازیوں میں خوشی اور روحانی اطمینان نمایاں تھا۔ حاجی محمد اشرف، جو گاندربل سے حضرت بل پہنچے تھے، نے کہا:’رمضان کا جمعہ ہو اور درگاہ حضرت بل نہ آئیں، ایسا ممکن ہی نہیں۔ یہاں آکر دل کو سکون ملتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ساری زندگی کی تھکن ایک لمحے میں اتر جاتی ہے۔‘
نوہٹہ کے ایک مقامی نوجوان ارشاد احمد نے بتایا:’مسجد میں اتنا بڑا اجتماع دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ رمضان کے جمعہ میں ایک خاص نورانیت ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وادی ہمیشہ امن اور










