سرینگر: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ قوم کی تعمیر نوجوان نسل کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ جب ملک مضبوط ہوگا تو وہ بھی ترقی کریں گے۔
یونیورسٹی آف کشمیر کے۲۱ویں کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے ادارے میں بڑی تعداد میں طالبات کی جانب سے اعلیٰ اعزازات حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
سنہا نے کہا’’واحد ترجیح ملک کو اولیت دینا ہونی چاہیے۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب آپ ملک کی تعمیر کرتے ہیں تو ملک آپ کو سنوارتا ہے۔ جب قوم ترقی کرتی ہے تو آپ بھی ترقی کرتے ہیں‘‘۔
تقریب میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن مہمانِ خصوصی تھے۔
سنہا نے کہا کہ کامیابی کے حصول کے لیے طلبہ اور اساتذہ کو تین امور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے:بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت، ناکامی کو سیکھنے کے عمل کا حصہ سمجھنا، اور ٹیکنالوجی کو بطور آلہ استعمال کرنا۔
ایل جی نے کہا’’بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ناکامی کو سزا نہ سمجھا جائے بلکہ اسے سیکھنے کے عمل کا حصہ مانا جائے۔ ہمیں ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرنا بلکہ اسے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تعلیم کوئی مراعت نہیں بلکہ تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، اور ڈیجیٹل انقلاب نے طلبہ کی زندگی بدل دی ہے کیونکہ دنیا سمٹ رہی ہے اور مواقع لامحدود ہو چکے ہیں۔
سنہا نے کہا’’چیلنجز بھی موجود ہیں۔ جو آج طلب میں ہے وہ کل متروک ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کے مطابق خود کو بدلا جائے۔ تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور آگے بڑھنے کے لیے عمر بھر سیکھنے کی خواہش ضروری ہوگی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ قوم نے یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ۲۰۴۷تک بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔انہوں نے کہا’’یہ محض ایک خواب نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ایک ہدف ہے۔ اس کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکنالوجی منافع کا ذریعہ بنتی ہے یا انسانیت کی ترقی کا‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ معیارِ زندگی پر مثبت اثر ڈالنا بھی ہے، اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ روایتی ذرائع سے آگے بڑھ کر جدت کو اپنائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کانووکیشن میں بڑی تعداد میں طالبات کی جانب سے اعلیٰ اعزازات حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’مجھے خوشی ہے کہ۲۳۹طلائی تمغوں میں سے۱۸۶لڑکیوں نے حاصل کیے ہیں۔۱۶۴پی ایچ ڈی میں سے۱۰۸لڑکیوں کو دی گئی ہیں۔ یہ کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں ہیں‘‘۔
سنہا نے کہا’’یہ اس بات کا پیغام ہے کہ خواتین نہ صرف شرکت کر رہی ہیں بلکہ نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں، وہ نئے معیار قائم کر رہی ہیں۔ اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دے رہے ہیں۔‘‘










