- ’جموںکشمیر سیاحتی شعبے کو فروغ دے لیکن عظیم ریاستی ماحولیاتی نظام کو متاثر نہیں ہونا چاہیے‘
- ’طلبہ کو منشیات سے دور رہنے کی تلقین،’آپ کے والدین بڑھاپنے میں آپ پر انحصار کرتے ہیں کہ آپ ن کا سہارا بنیں ‘
سری نگر: نائب صدر ہند‘سی پی رادھا کرشنن نے جمعرات کو کہا کہ عالمی سطح پر اختراعات میں قیادت حاصل کرنے کے لیے قوم کو اپنی نوآبادیاتی ذہنیت سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔
وہ یہاں کشمیر یونیورسٹی کے۲۱ویں کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔
رادھا کرشنن نے کہا’’بطور فارغ التحصیل طلبہ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ سَودیشی اختراعات اور ایسے حل پر توجہ دیں جو بھارتی علم، وسائل اور ضروریات میں پیوست ہوں۔ ہمیں نہ گھبرانے کی ضرورت ہے اور نہ احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کو ترک کرنا ہوگا‘‘۔
نائب صدر نے کہا کہ وزیر اعظم‘نریندر مودی نے ملک میں کاروباری ماحول کو پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور معاون بنایا ہے۔’’میری نیک تمنائیں ہیں کہ آپ اگلی بڑی اختراع، پائیدار ترقی کا نیا راستہ اور بھارت کی عالمی قیادت کے اگلے باب کو رقم کریں‘‘۔
کووڈ۱۹وبا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کے سائنس دانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس وبا کے خلاف ویکسین تیار کریں۔ان کاکہنا تھا’’ہم میں سے کتنے لوگ اس پر یقین رکھتے تھے؟ مگر ہم نے بہترین ویکسین تیار کی اور اس نے پوری انسانیت کے لیے مؤثر کردار ادا کیا‘‘۔
رادھا کرشنن نے مزید کہا کہ یہی ویکسین ترقی یافتہ مغربی معیشتوں میں بھی تحقیق کے مراحل سے گزری، لیکن وہاں اسے پیٹنٹ کر کے مہنگے داموں فروخت کرنے کی دوڑ لگی رہی۔انہوں نے کہا ’’ہاں، ویکسین کی ایک خوراک۷۵۰۰؍امریکی ڈالر میں فروخت ہو سکتی ہے، لیکن ایک غریب آدمی اسے کیسے خرید سکتا ہے؟‘‘
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارتی اختراعات کو مغربی دنیا میں بھی وسیع پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔’’اب پوری دنیا آپ کے لیے کھلی ہے۔ آپ کا عزم، دلچسپی، جوش اور محنت ہی آپ کو دنیا کی بلندیوں تک لے جائے گی‘‘۔
رادھا کرشنن نے بتایا کہ حال ہی میں مرکزی حکومت نے سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع اور ترقی کی منظوری دی ہے، جس پر۱۶۰۰کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔انہوں نے کہا’’ہمارے وزیر اعلیٰ‘عمرعبداللہ نے ذکر کیا کہ سیاحت کو فروغ دیا جانا چاہیے، لیکن ایسا کرتے وقت ہمارے عظیم ریاستی ماحولیاتی نظام کو متاثر نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
نائب صدر نے دریائے چناب پر تعمیر شدہ ریل پل کو ایک شاہکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا بلند ترین ریلوے پل ہے۔’’اس کے علاوہ بھی کئی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ہیں جو ایک بڑا پیغام دیتے ہیں۔ یہ منصوبے محض انجینئرنگ کی کامیابیاں نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کے آلات ہیں۔ جب مقامات جڑتے ہیں تو لوگ جڑتے ہیں، اور جب لوگ جڑتے ہیں تو دل قریب آتے ہیں‘‘۔
رادھا کرشنن نے کہا کہ یہ اقدامات آج فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’وزیر اعظم کی خصوصی اسکالرشپ اسکیمیں جموں و کشمیر کے طلبہ کے لیے ایک بڑا موقع، امنگ اور قومی یکجہتی کا ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ انہیں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں‘‘۔
طلبہ کو منشیات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے رادھا کرشنن نے کہا،’’آپ کے والدین آپ پر انحصار کرتے ہیں کہ آپ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں گے… وہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں کامیاب ہوں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہر مذہب منشیات کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتا ہے، اس لیے اس سے دور رہیں۔’’اپنے دوستوں، خاندان اور جن سے بھی آپ ملتے ہیں، سب کو منشیات سے دور رہنے کا مشورہ دیں‘‘۔
نائب صدر نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال برتنے کا مشورہ بھی دیا۔انہوں نے کہا ’’اس پر قابو رکھنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا آپ کو زندگی میں زیادہ کامیاب بنانے میں مدد نہیں دے گا۔ ہر چیز کی ایک حد ہونی چاہیے‘‘۔
جھارکھنڈ کے گورنر کے طور پر اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ایک وفد نے ایک بھارت شریشٹھ بھارت پہل کے تحت ریاست کا دورہ کیا تھا اور اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت میں دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اپنے جذبات کا احترام کرنا ، اور اس طرح کے تبادلے قومی یکجہتی کو گہرا کرتے ہیں ۔
رادھا کرشنن نے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا’’میں آپ کو تین سطریں کہنا چاہتا ہوں:میرا کشمیر نہیں، تمہارا کشمیر نہیں، ہمارا کشمیر۔ میں آپ سب سے یہی توقع رکھتا ہوں۔‘‘










