سرینگر: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے منگل کے روز کشمیر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلاتی زوال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت کو مکمل ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر ابھیجیت جسروتیا نے دعویٰ کیا کہ وادی کشمیر کا درجہ حرارت اس وقت معمول سے تقریباً۲ء۵ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے، جو عالمی اوسط۱ء۵ڈگری سے کہیں زیادہ ہے اور یہ صورتحال خطے کو ’خطرے کے زون‘ میں دھکیل رہی ہے۔
سری نگر میں بی جے پی ترجمانوں الطاف ٹھاکر اور منظور بٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جسروتیا نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران سرسبز جنگلات اور قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق درخت بے تحاشا کاٹے جا رہے ہیں جبکہ کھوئی ہوئی سبزہ کاری کی بحالی کے لیے کوئی مربوط کوششیں نظر نہیں آتیں۔
جسروتیا نے کہا کہ ’موجودہ حکومت مصنوعی برف اور مصنوعی کولنگ کی بات تو کرتی ہے، مگر قدرتی جنگلاتی تحفظ، درختوں کی افزائش اور ماحولیاتی استحکام کے لیے کوئی عملی روڈمیپ پیش نہیں کرتی۔ یہ نہ صرف کھیلوں کے ماحولیاتی ڈھانچے، بلکہ حساس ہمالیائی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔‘
بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا کہ غیر منظم شہری پھیلاؤ، بے قابو تعمیرات، سڑکوں کی کشادگی، باغاتی اراضی کی تیزی سے کمی اور دلدلی علاقوں کی بربادی کشمیر کے موسمیاتی توازن کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات ماحولیات سے زیادہ تشہیری مہمات پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔
ان کے مطابق۲۰۱۹سے۲۰۲۳ کے درمیان جنگلاتی ڈھانچے میں بہتری دیکھنے کو ملی تھی اور تاریخی فور چنار کی بحالی بھی اسی عرصے میں ممکن ہوئی، لیکن ’موجودہ نیشنل کانفرنس حکومت نے دوبارہ جنگلاتی کٹائی، ویٹ لینڈز کی بربادی اور غیر ضروری تعمیرات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتائج مستقبل میں شدید ہیٹ ویوز، کم برفباری، سیاحت اور باغبانی کے زوال کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔‘
بی جے پی ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ’برفباری میں بے قاعدگی اور گرمی میں اضافہ سیب کے باغات اور سیاحتی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ حکومت نہ کوئی واضح کلائمیٹ پالیسی دے پائی ہے اور نہ ہی شہری منصوبہ بندی کا کوئی شفاف خاکہ موجود ہے۔‘
منظور بٹ نے سری نگر سمیت مختلف شہری علاقوں میں تیز رفتار اربنائزیشن اور درختوں کے بے تحاشا کٹاؤ کو سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ماحولیاتی احتیاط کے بڑھتی تعمیرات شہر میں ’اربن ہیٹ ایفیکٹ‘ کو کئی گنا بڑھا رہی ہیں، جس کے سنگین موسمی اثرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر جسروتیا نے وادی بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی شمولیت کے ساتھ سبز کشمیر مہم شروع کرنے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عید کے موقع پر ہر بچے کو ایڈی کے طور پر چنار کا پودا دیا جائے تاکہ انہیں ماحول دوست رویوں کی ترغیب ملے اور کشمیر کی شناخت رکھنے والے اس عظیم الشان درخت کی افزائش دوبارہ ممکن ہو سکے۔
بی جے پی رہنماؤں نے حکومت سے جنگلات کی بحالی، دلدلی علاقوں کے احیا، تعمیراتی منصوبوں کا سخت ماحولیاتی آڈٹ اور ایک ٹائم باؤنڈ شجرکاری پروگرام کے آغاز کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت قدم نہ اٹھایا گیا تو کشمیر مستقبل قریب میں ناقابلِ تلافی موسمیاتی تباہی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔










