جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یومیہ اجرت اور عارضی ملازمین کی مستقلی کے عمل کو قانونی اور مالی طور پر پائیدار انداز میں شروع کرنے کی یقین دہانی نے ایک بار پھر اس دیرینہ مسئلے کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں، امیدوں اور مستقبل سے جڑا سوال ہے۔ ایسے ملازمین جو۲۰‘۳۰بلکہ۴۰برسوں سے سرکاری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اُن کے لیے ’مستقل‘ ہونے کا مطلب صرف تنخواہ میں اضافہ نہیں بلکہ وقار، تحفظ اور استحکام ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے مختلف ادوار میں سرکاری نظام کو چلائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسکولوں، اسپتالوں، بجلی و آب رسانی، خوراک اور دیگر ضروری خدمات کے شعبوں میں انہی کارکنوں نے کم معاوضے اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود فرائض سرانجام دیے۔ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ حکومت اُن کی خدمات کو محض عارضی بندوبست نہ سمجھے بلکہ انہیں باعزت اور محفوظ روزگار فراہم کرنے کی سمت ٹھوس پیش رفت کرے۔
لیکن مسئلہ اتنا سادہ بھی نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ جموں و کشمیر کے مالی ڈھانچے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ سالانہ بجٹ کا تقریباً۷۰فیصد حصہ تنخواہوں، پنشن، عوامی قرضوں پر سود، بجلی خریداری اور دیگر لازمی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف۳۰فیصد کے قریب وسائل ترقیاتی منصوبوں کے لیے بچتے ہیں۔ ایسے میں اگر بڑے پیمانے پر مستقلی کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ مزید بڑھے گا، جس سے ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب گنجائش مزید سکڑ سکتی ہے۔
ماہرینِ معیشت مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ جب بجٹ کا بڑا حصہ غیر اختیاری اور مستقل نوعیت کے اخراجات پر صرف ہو تو حکومت کے پاس بنیادی ڈھانچے کی بہتری، نئی صنعتوں کے قیام، روزگار کے متبادل مواقع پیدا کرنے اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔ اگر ترقیاتی رفتار کمزور پڑ جائے تو طویل المدتی طور پر روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں، جو خود بیروزگاری کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی زیرِ غور آنا چاہیے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی مستقلی ایک سیاسی وعدہ بھی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی منشور میں اس مسئلے کے حل کا عزم ظاہر کیا تھا۔ جمہوری سیاست میں وعدوں کی تکمیل حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تاہم، وعدے کی تکمیل بھی ایسی ہو جو مالیاتی نظم و ضبط کو نقصان نہ پہنچائے۔ اگر فیصلہ جلد بازی میں یا مکمل تیاری کے بغیر کیا گیا تو ممکن ہے کہ معاملہ عدالتوں میں الجھ جائے یا محکمہ خزانہ کی رکاوٹوں کا شکار ہو جائے، جس کا نقصان انہی ملازمین کو ہوگا جن کے حق میں فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے چیف سیکریٹری کی نگرانی میں کمیٹی کی تشکیل اسی تناظر میں ایک سنجیدہ قدم محسوس ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ کمیٹی نہ صرف اعداد و شمار کا درست تخمینہ لگائے بلکہ ایک مرحلہ وار روڈ میپ بھی پیش کرے۔ ممکن ہے کہ مستقلی کا عمل یکبارگی مکمل کرنے کے بجائے مرحلہ وار بنیادوں پر کیا جائے، جہاں سب سے زیادہ مدتِ خدمت رکھنے والے یا انتہائی ضروری خدمات سے وابستہ ملازمین کو ترجیح دی جائے۔
ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حکومت ہر شہری کو سرکاری نوکری فراہم نہیں کر سکتی۔ سرکاری ملازمت محدود نوعیت کا ذریعۂ روزگار ہے، جبکہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے، صنعت، سیاحت، زراعت اور خدماتی شعبوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ اگر تمام تر توجہ صرف سرکاری ملازمتوں پر مرکوز رہے گی تو معیشت کا دائرہ محدود ہو جائے گا۔ بہتر حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ سرکاری شعبے میں شفاف اور منصفانہ بھرتیوں کے ساتھ ساتھ نجی سرمایہ کاری، ہنر مندی کے پروگرام اور چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ایک اور تشویش ناک پہلو ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے متعلق ہے۔ جو محدود وسائل ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، ان کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان اکثر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بدانتظامی، تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافہ اور مبینہ بدعنوانی کی شکایات عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔ اگر ترقیاتی فنڈز کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے تو محدود وسائل کے باوجود بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو یومیہ اجرت کے کلچر کو بتدریج کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ مستقلی کے عمل کو محض سیاسی نعرہ نہ بننے دے بلکہ اسے ایک جامع اصلاحاتی پیکیج کا حصہ بنائے۔ اس پیکیج میں مالیاتی نظم و ضبط، محکموں کی تنظیمِ نو، غیر ضروری اخراجات میں کمی، اور محصولات میں اضافے کی حکمت عملی شامل ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ایک شفاف ڈیٹا بیس تیار کیا جائے جس میں ہر یومیہ اجرت یا عارضی ملازم کی مدتِ خدمت، محکمہ، ذمہ داریاں اور قانونی حیثیت واضح ہو، تاکہ کسی قسم کی ابہام یا تنازع کی گنجائش باقی نہ رہے۔
انسانی ہمدردی اور مالیاتی حقیقت پسندی کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں، لیکن یہی اصل قیادت کا امتحان ہوتا ہے۔ حکومت کو ایک طرف ان کارکنوں کے جذبات اور برسوں کی محنت کا احترام کرنا ہے، تو دوسری طرف خطے کی مجموعی معیشت کو مستحکم بھی رکھنا ہے۔ اگر مستقلی کا عمل شفاف، منصفانہ اور مرحلہ وار انداز میں مکمل کیا جائے، اور ساتھ ہی ترقیاتی سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جائے، تو یہ فیصلہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کے لیے خوش خبری ہوگا بلکہ انتظامی نظام کے لیے بھی استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اس حساس معاملے کو جذباتیت یا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سنجیدہ مشاورت، مالیاتی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ کیونکہ بالآخر یہ سوال صرف ملازمت کا نہیں، اعتماد کا بھی ہے—اور اعتماد ہی کسی بھی حکومت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔





