سرینگر: جموں و کشمیر کے شمالی ضلع کپوڑہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جمعہ کو اس وقت کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی جب پاکستان کی جانب سے نوگام سیکٹر کے توتمار گلی علاقے میں اچانک جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوجی چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فائرنگ دوپہر کے قریب شروع ہوئی اور کچھ وقت تک جاری رہی۔
فوجی حکام نے تصدیق کی کہ پاکستانی پوسٹوں سے کی گئی فائرنگ بلا اشتعال تھی، تاہم بھارتی فوج نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں صورتحال کو سنبھالا اور کسی قسم کی جوابی اشتعال انگیزی سے گریز کیا۔
دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس طرح کی حرکتیں امن کو درہم برہم کرنے کی کوشش ہیں، مگر ہماری فورسز ہر وقت پوری چوکسی کے ساتھ تیار ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فائرنگ کے دوران کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ فائرنگ کا سلسلہ رکنے کے بعد علاقے میں معمولاتِ زندگی بحال ہو گئے تاہم فوج نے اضافی گشت اور نگرانی بڑھا دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا مزید اشتعال انگیزی کو روکا جا سکے۔
سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے مطابق فائرنگ شروع ہوتے ہی چند منٹ کے لیے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوئی، مگر بھارتی فوج کی فوری کارروائی اور بعد میں خاموشی سے حالات دوبارہ معمول پر آگئے۔
اس دوران جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں لائن آف کنٹرول کے سندربنی سیکٹر میں جمعے کے روز سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑے سرچ آپریشن کے دوران جنگی ساز و سامان برآمد کیا ہے۔
یہ کارروائی اُس دراندازی کی کوشش کے اگلے ہی دن کی گئی جسے جمعرات کے روز بھارتی فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ناتھوا ٹبہ علاقے میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران فورسز کو کئی مقامات پر بھاری خون کے نشانات ملے جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دراندازی کی کوشش کرنے والے دہشت گرد شدید زخمی حالت میں پسپا ہونے پر مجبور ہوئے۔
آپریشن کے دوران فورسز نے ایک اے کے۴۷رائفل، دو میگزین بمعہ زندہ گولیاں، تین رساکس، کمبل، راشن اور مختلف قسم کے ملبوسات برآمد کیے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ مواد اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دہشت گرد ایک بڑی کارروائی کی نیت سے سرحد پار کرنے کی کوشش میں تھے، تاہم فوج کی مستعدی نے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور فوج نے ایل او سی کے گرد چوکسی مزید سخت کرتے ہوئے اضافی دستے تعینات کیے ہیں تاکہ زخمی دہشت گرد دوبارہ گھسنے کی کوشش نہ کر سکیں۔










