نئی دہلی، 17 فروری (یو این آئی) دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے منگل کے روز کہا کہ نوجوان صرف ترقی یافتہ ہندوستان کے مستفید ہونے والے نہیں بلکہ اس تبدیلی کے بنیادی معمار بھی ہیں۔
وجیندر گپتا نے دہلی یونیورسٹی کے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کالج کے 35ویں سالانہ تقریب اور تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ محض اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے اس خواب کی علامت ہے جس میں تعلیم کے ذریعے سماجی تبدیلی کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی توانائی اور اختراعی سوچ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس مشن کی اصل طاقت ہے، جس کا مقصد 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور صلاحیت اور اختراع کا دور ہے اور نوجوان ایک ایسے ابھرتے ہوئے ہندوستان کا حصہ ہیں جو تیزی سے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈگری صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ معاشرے کے تئیں ذمہ داری کا اعلان ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر کے مشہور پیغام ’’تعلیم حاصل کرو، منظم رہو اور جدوجہد کرو‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں اس کا مطلب قومی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے تعلیم کا استعمال کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی محنت اور اساتذہ کی رہنمائی کا نتیجہ ہوتی ہے اور جنہیں آج انعام نہیں ملا، وہ یاد رکھیں کہ ناکامی صرف اس بات کا اشارہ ہے کہ ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کی اصل آزمائش کالج کے بعد شروع ہوتی ہے جہاں کردار اور نقطۂ نظر کی اہمیت ڈگری سے بڑھ کر ہوتی ہے اور خطرہ مول لینے سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ گر کر سنبھلنے والے ہی تاریخ رقم کرتے ہیں۔
وجیندر گپتا نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور جدیدیت کے اس دور میں بھی طلبہ کو اپنی جڑوں اور انسانی اقدار سے وابستہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے قوم کی تعمیر میں نوجوان ذہنوں کی تشکیل کے لیے کالج انتظامیہ اور اساتذہ کے کردار کو سراہتے ہوئے جمہوری عمل میں نوجوانوں کی فعال شرکت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ امرت کال کے دوران مل کر ایسا ہندوستان تعمیر کریں جو مضبوط اور جامع ہو اور ہر نوجوان کو اپنی مکمل صلاحیت کے اظہار کا موقع فراہم کرے۔










