تہران /12فروری //
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری مقام کے قریب سرنگوں کے احاطے کو مضبوط کیا ہے۔
ایران نطنز جوہری تنصیب کے جنوب میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر زیر زمین کمپلیکس کے داخلی راستوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی (آئی ایس آئی ایس) کے تھنک ٹینک کی طرف سے تجزیہ کردہ سیٹلائٹ امیجز ماؤنٹ کولنگ گاز لا پر واقع کمپلیکس کو دکھاتی ہیں جسے پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک سرنگ کے دروازے پر نیا کنکریٹ دکھائی دیتا ہے۔
10 فروری کی تصاویر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک اور سرنگ میں کنکریٹ سے مضبوط ڈھانچہ شامل کیا گیا ہے۔
آئی ایس آئی ایس کا کہنا ہے کہ جگہ کے ارد گرد بھاری تعمیراتی مشینری اور مواد کی جاری موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپلیکس ابھی تک آپریشن کے لیے تیار نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ برس ایران پر کیے جانے والے حملوں کو اس جوہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا تھا جبکہ اس کے قریب نطنز جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
آئی ایس آئی ایس نے اصفہان میں ایک جوہری مقام پر سرنگ کے داخلی راستوں کو مٹی ڈال کر بند کرنے کی سیٹلائٹ تصاویر کا بھی تجزیہ کیا ہے۔ اس مقام کو گذشتہ برس کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔








