سرینگر: وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں ڈیفنس ایکوزیشن کونسل نے دفاعی فورسز کی صلاحیت میں اضافے کیلئے ۳لاکھ۲۵ہزارکروڑ روپے (۳۹؍ارب) ڈالرز کی منظوری دے دی ہے۔
جمعرات کو دہلی میں ہونے والے اجلاس میں اس بجٹ کی منظوری دی گئی، جس کے تحت مزید رفال لڑاکا طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈیا نے۱۱۴رفال طیارے اور دیگر فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے۳۹؍ ارب ڈالرز کی منظوری دی ہے۔
کونسل نے نئے میزائل اور سیٹلائٹ سسٹم خریدنے کے لیے بھی رقم کی منظوری دی ہے۔
وزارت دفاع نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ اس کا مقصد فضائی قوت میں اضافہ اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج اور بحریہ کو بھی اپنی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے جبکہ کوسٹ گارڈز کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔
وزارت دفاع نے جمعرات کو فرانس کے ساتھ۱۱۴ رفال لڑاکا طیاروں کی خریداری کے طویل عرصے سے زیر التوا معاہدے کی منظوری دے دی۔ اسی طرح کی خریداری کو تقریباً۱۳سال قبل حتمی شکل دی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز میں فرانسیسی دفاعی کمپنی ڈاسو ایوی ایشن سے۱۱۴رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری شامل ہے۔ ان میں سے۱۸طیارے براہِ راست فرانس سے حاصل کیے جائیں گے جبکہ باقی۹۶طیارے بھارت میں تیار کیے جائیں گے۔
اس معاہدے میں جدید لڑاکا طیارہ ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہوگی اور اسے ایک اسٹریٹیجک شراکت داری کے طور پر ترتیب دیا جائے گا تاکہ حکومت کے’میک اِن انڈیا‘ پروگرام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ وزارتِ دفاع کی منظوری کے بعد اس حصولیاتی عمل کو حتمی منظوری کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے پاس بھیجا جائے گا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں دفاعی حصولیاتی کونسل نے آج مسلح افواج کی متعدد تجاویز کو بھی اے او این دیا جن کی مجموعی مالیت تقریباً۳لاکھ۶۰ہزار کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔
بھارتی فضائیہ کے لیے اے او این نہ صرف ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ(ایم آر ایف اے )پروگرام ‘جسے رافیل کے طور پر شناخت کیا گیا‘ بلکہ جنگی میزائلوں اور ایئر شپ بیسڈ ہائی آلٹی ٹیوڈ پیسو سیٹلائٹ کے لیے بھی دیا گیا۔
ایم آر ایف اے کی خریداری کا مقصد فضائیہ کی مکمل جنگی دائرہ کار میں فضائی برتری حاصل کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے خاص طور پر طویل فاصلے تک حملہ آور کارروائی کی صلاحیت کے ذریعے دفاعی ڈیٹررنس مضبوط ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت زیادہ تر طیارے ملک میں تیار کیے جائیں گے۔
منظور شدہ جنگی میزائل اسٹینڈ آف گراؤنڈ اٹیک صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جو انتہائی درستگی کے ساتھ گہرائی تک حملے کی قوت فراہم کریں گے۔
بری فوج کے لیے ’وبھَو‘ اینٹی ٹینک بارودی سرنگوں کی خریداری اور آرمرڈ ریکوری وہیکلز، ٹی۷۲ ٹینکوں اور بی ایم پی-II انفنٹری کومبیٹ وہیکلز کے پلیٹ فارمز کی اوورہال کی منظوری دی گئی۔
وبھَو اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں دشمن کی میکانائزڈ فورسز کی پیش قدمی روکنے کے لیے رکاوٹ نظام کے حصے کے طور پر بچھائی جائیں گی۔ اے آر ویز ٹی۷۲اور بی ایم پی-II گاڑیوں کی اوورہال سے ان کی سروس لائف میں اضافہ ہوگا۔
بحریہ کے لیے۴میگاواٹ میرین گیس ٹربائن بیسڈ الیکٹرک پاور جنریٹر اور اضافی پی۸آئی لانگ رینج میری ٹائم ریکانائسنس طیاروں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔
۴میگاواٹ میرین گیس ٹربائن بیسڈ الیکٹرک پاور جنریٹر کو دفاعی حصولیاتی طریقۂ کار۲۰۲۰کے ’میک ون‘زمرے کے تحت شامل کیا جائے گا۔اضافی پی۸آئی طیاروں کی شمولیت سے بحریہ کی طویل فاصلے کی اینٹی سب میرین جنگی صلاحیت، سمندری نگرانی اور سمندری حملہ آور کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔
بھارتی کوسٹ گارڈ کے لیے ڈورنیئر طیاروں پر الیکٹرو آپٹیکل/انفرا ریڈ سسٹمز کی خریداری کی بھی منظوری دی گئی۔
فضائیہ اس وقت دو اسکواڈرنز میں۳۶رافیل طیارے استعمال کر رہی ہے۔ ‘سی’ ویریئنٹ کی آخری ترسیل دسمبر۲۰۲۴ میں ہوئی تھی۔
علاوہ ازیں بھارت نے بحریہ کے لیے۲۶ رافیل ‘ایم’ ویریئنٹ طیارے بھی۶۳ہزار کروڑ روپے کے معاہدے کے تحت آرڈر کیے ہیں۔ یہ بحری طیارے طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرانت اور آئی این ایس وکرمادتیہ سے آپریٹ کریں گے۔اس معاہدے میں بیڑے کی دیکھ بھال، لاجسٹک سپورٹ اور عملے کی تربیت کے لیے مینٹیننس، ریپیئر اینڈ اوورہال انتظام بھی شامل ہے۔










