بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

امریکہ کے بعد فرانس اور جرمنی بھی اسرائیلی فیصلے کی مخالفت کردی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-12
in عالمی خبریں
A A
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا:آئی آر جی سی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش

پیرس، 11 فروری (یو این آئی)
امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور مسلم ممالک کے بعد جرمنی اور فرانس نے بھی مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
اسرائیل میں جرمنی کے سفیر اسٹیفن سیبرٹ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے حالیہ اقدامات "بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں”۔
رام اللہ میں جرمن نمائندے اینکے شلم نے بھی کہا کہ "مغربی کنارے میں نجی زمین کی خریداری اور انتظامیہ کے حصوں کی منتقلی کی اجازت دینے کا اسرائیلی دباؤ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کی راہ میں مزید رکاوٹ کی نمائندگی کرتا ہے”۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ "مغربی کنارہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا ایک لازمی حصہ ہے،”
فرانس کی وزارت برائے یورپ اور خارجہ امور نے مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی "سخت مذمت” کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اقدامات "مغربی کنارے کے الحاق دو ریاستی حل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان فیصلوں کو واپس لے اور الحاق کی کسی بھی شکل کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کرے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کے کنٹرول کے فیصلے کی مخالفت کردی ہے، جب کہ برطانیہ نے بھی اسرائیل سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کے اعلان کے ایک دن بعد وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے پیر کے روز بتایا کہ امریکی صدر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کے مخالف ہیں۔
اسرائیل کے اقدام کے خلاف عالمی سطح پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے، جس میں یورپی یونین، برطانیہ، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکومت نے بھی کہا کہ وہ مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے اسرئیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے، ایسی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی، اسرائیل فیصلہ فوری واپس لے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں مزید غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات پر پاکستان، سعودی عرب اور مصر سمیت 8 اسلامی ممالک، یورپی یونین اور سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔
نئے اقدامات کے تحت اسرائیلی شہریوں کے لیے نئی یہودی بستیوں کے قیام کی خاطر زمین حاصل کرنا بھی آسان بنا دیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔ پیر کے روز آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی فیصلے اور اقدامات فلسطینی علاقوں غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے کہا کہ یہ اقدامات یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت نافذ کرنے کی کوشش ہیں، جس کے ذریعے اس کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانیہ اور اسپین نے بھی بڑھتی ہوئی مذمت میں شمولیت اختیار کی۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق گوتریس نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات عدم استحکام پیدا کرنے والے ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

غزہ میں امن افواج کی تعداد 20,000 ہو سکتی ہے: انڈونیشیا

Next Post

امریکہ سے تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے تباہ کن طوفان ہوگا: راہل گاندھی

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

اسرائیل ہماری دفاعی صلاحیتوں سے متعلق ایک خیالی خطرہ گھڑ رہا ہے : ایران
عالمی خبریں

ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا:آئی آر جی سی

2026-07-21
ایران ایک ہی ہفتے تک رویہ بہتر رکھ کر معاہدے کی پاسداری کر سکا، جی ڈی وینس
عالمی خبریں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش

2026-07-21
جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں زلزلے کے ہلکے جھٹکے ، کوئی نقصان نہیں
عالمی خبریں

مغربی ایران میں 5.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

2026-07-21
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم، خام تیل 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
عالمی خبریں

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

2026-07-21
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

2026-07-16
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
عالمی خبریں

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

2026-07-16
غزہ؛ اسرائیل کی بمباری میں تاریخی مسجد ’العمری الکبیر‘ شہید
عالمی خبریں

جنوبی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں، ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید

2026-07-16
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

2026-07-14
Next Post
جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی اور ریاست کا درجہ سب سے اہم :راہل

امریکہ سے تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے تباہ کن طوفان ہوگا: راہل گاندھی

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.